Surah Nasr Urdu Tafsir| سورہ نصر اردو تفسیر

یہ وہ سورت ہے جو نمازوں میں بکثرت پڑھی جاتی ہے ، اور تقریباً ہر مسلمان کو یاد ہوتی ہے ، اس سورت کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ قرآن کریم کی سب سے آخری سورت ہے جو مکمل نازل ہوئی اس کے بعد کوئی اور سورت مکمل نازل نہیں ہوئی ۔

Contents hide

اس تفصیلی مضمون میں ہم Surah Nasr Urdu Tafsir، اس کا پسِ منظر، تاریخ اور فضائل احادیث کی روشنی میں تفصیل سے بیان کریں گے ۔

سورۂ نصر: شانِ نزول

سورۂ نصر قرآنِ مجید کی 110ویں سورت ہے۔ یہ مدنی سورت ہے اور اس میں 3 آیات ہیں۔ یہ سورت نزول کے اعتبار سے قرآن کریم کی آخری مکمل نازل ہونے والی سورت مبارکہ ہے ۔

سورۂ نصر میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو خوش خبری دی کہ جب اللہ کی مدد آجائے گی ، اور فتح حاصل ہوگی

اور لوگ گروہ در گروہ اسلام میں داخل ہوں گے، تو آپ ﷺ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کریں اور اس سے مغفرت طلب کریں۔

یہ وہ سورت ہے جس میں بہت ساری حکمتیں اور بشارتیں ہیں دیکھا جائے تو تین آیتیں ہیں لیکن معنی اور مفاہیم کے اعتبار سے بہت بڑی سورۂ مبارکہ ہے

یہ سورت فتح مکہ سے پہلے نازل ہوئی اس میں فتح مکہ کی بشارت ہے اور ایک پیش گوئی ہے کہ حضور ﷺ کا اس دنیا سے رحلت کا وقت آن پہنچا ۔

سورۂ نصر : پسِ منظر

غزوہِ خیبر کے بعد قرآن کریم نے جو نقشہ کھینچا تھا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی مدد آنے والی ہے ، مکہ مکرمہ فتح ہونے والا ہے ، تم آنکھوں سے دیکھو گے کہ لوگ اللّٰہ تعالیٰ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں۔

حرف بہ حرف لوگوں نے دیکھ لیا فتح مکہ سے بہت پہلے یہ منظر نبی کریم ﷺ کے سامنے کھینچ دیا گیا تھا ، کیونکہ اس میں پیش گوئی تھی کہ عنقریب مسلمانوں کو عظیم فتح حاصل ہونے والی ہے ۔

سورۂ نصر کا اصل مفہوم اور حضرت ابن عباسؓ کا واقعہ

ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہ کا بیان ہے، جب یہ سورت نازل ہوئی تو حضور ﷺ نے فرمایا مجھے میری وفات کی خبر دی گئی ہے اور میرا وقت آن پورا ہوا ۔

سورۂ نصر کی تفسیر اور اس کے پسِ منظر کو سمجھنے کے لیے امام بخاریؒ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک نہایت خوبصورت اور ایمان افروز واقعہ نقل فرمایا ہے، جس سے اس سورت کی اصل گہرائی معلوم ہوتی ہے۔

حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کی حاضری پر بزرگوں کا اعتراض

ابنِ عباس فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ مجھے غزوہِ بدر میں شریک ہونے والے مشائخ بدر کے ساتھ اپنی مجلس میں بلاتے تھے، یہ بات بعض بزرگوں کو ناگوار گزری

انہوں نے کہا ہمارے لڑکے بھی تو اس جیسے ہیں، اس کو خاص طور پر کیوں ہماری مجلس میں شریک کیا جاتا ہے، (امام بخاری اور ابنِ جریر نے تصریح کی ہے کہ یہ بات کہنے والے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللّٰہ عنہ تھے)

مشائخِ بدر سے سورۂ نصر کے بارے میں سوال

حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا علم کے لحاظ سے اس کا جو مقام ہے آپ جانتے ہیں؟ پھر ایک دن انہوں نے مشائخ بدر کو بلایا اور مجھے بھی ان کے ساتھ بلا لیا، میں سمجھ گیا کہ مجھے یہ دکھانے کے لئے بلایا گیا ہے کہ مجھے ان کی مجلسوں میں کیوں شریک کیا جاتا ہے

دورانِ گفتگو حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے مشائخ بدر رضی اللّٰہ عنھم سے پوچھا کہ آپ حضرات سورۂ نصر کے بارے میں کیا کہتے ہیں، کچھ نے کہا اس میں ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ جب اللّٰہ کی مدد آۓ

اور ہم کو فتح نصیب ہو تو ہم اللّٰہ کی حمد کریں اور اس سے استغفار کریں، بعض نے کہا اس سے مراد شہروں اور قلعوں کی فتح ہے بعض خاموش رہے ۔

حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کا علمی امتحان

حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا ابنِ عباس تم بتاؤ کیا کہتے ہو اس بارے میں کیا تم بھی یہی کہتے ہو، میں نے کہا نہیں اس میں حضور ﷺ کو خبر دی گئی ہے کہ

جب اللّٰہ کی نصرت آ جائے اور فتح نصیب ہو جائے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ ﷺکا اس دنیا سے وقت رخصت ہے اور آپ ﷺ اللّٰہ کی حمد اور استغفار کریں ۔

اس پر حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا میں بھی اس کے سوا کچھ نہیں جانتا جو تم نے کہا ہے، ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے مشائخ بدر سے فرمایا

آپ لوگ مجھے کیوں ملامت کرتے ہیں جبکہ اس لڑکے کو مجلسوں میں شریک کرنے کی وجہ آپ سب نے دیکھ لی ۔

Surah Nasr Urdu Tafsir

(Surah Nasr Urdu Tafsir) سورۂ نصر اردو تفسیر

مندرجہ بالا روایات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس سورت میں اللّٰہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو یہ بتا دیا تھا کہ جب عرب میں اسلام کی فتح مکمل ہو جائے اور لوگ اللّٰہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہونے لگیں ۔

تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ کام مکمل ہو گیا جس کے لئے آپ ﷺ دنیا میں بھیجے گئے تھے، اس کے بعد آپ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ ﷺ اللّٰہ تعالیٰ کی حمد اور اس سے استغفار کرنے میں مشغول ہو جائیں ۔

اللّٰہ تعالیٰ کے فضل سے آپ ﷺاتنا بڑا کام انجام دینے میں کامیاب ہوئے، اور اس سے دعا کریں کہ اس خدمت کی انجام دہی میں جو بھول چوک یا کوتاہی بھی ہوگئی ہو اسے معاف فرما دے ۔

فتح مکہ کا عظیم انقلاب اور تسبیح و استغفار کی حکمت

اس مقام پر آدمی غور کرے تو دیکھے کہ ایک نبی اور ایک عام عظیم مصلح (یا رہنما) میں کیا فرق ہے۔ کسی دنیاوی رہنما کو اگر اپنی زندگی میں وہ کامیابی نصیب ہو جائے جس کے لیے وہ کام کرنے اٹھا ہو، تو اس کے لیے فخر کرنے کا موقع ہوتا ہے ۔

لیکن یہاں اللہ کے پیغمبر کو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ پوری قوم کے عقائد، افکار، عادات و اخلاق، معیشت، سیاست اور جہالت کو بالکل بدل دیا، اور جاہل قوم کو اٹھا کر اس قابل بنا دیا کہ وہ دنیا کو مسخر کر ڈالے۔

مگر اس عظیم کارنامے کے اپنے ہاتھوں انجام پانے کے بعد اسے تسبیح کرنے اور اس سے مغفرت کی دعائیں مانگنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ اور وہ پوری عاجزی کے ساتھ اس حکم کی تکمیل میں لگ جاتا ہے ۔

عظیم الشان کامیابی کے بعد تسبیح و استغفار

تکمیلِ مشن کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سبحانک اللّہم و بحمدک واستغفرک واتوب الیہ کثرت سے پڑھتے تھے۔میں نے پوچھا رسول اللہ ﷺ یہ کیسے کلمات ہیں

آپ ﷺ نے فرمایا: میرے لیے ایک علامت مقرر کر دی گئی ہے کہ جب میں اسے دیکھوں تو یہ الفاظ کہا کروں اور وہ ہے

إِذَا جَآءَ نَصْرُ ٱللَّهِ وَٱلْفَتْحُ ١

ترجمہ: جب اللّٰہ کی مدد آ پہنچی اور فتح حاصل ہوگئی ۔

یہ قرآن یعنی سورۂ نصر کی تاویل تھی جو آپ ﷺ نے فرمائی تھی، ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہ کا بیان ہے کہ اس سورت کے نازل ہونے کے بعد

رسول خدا صلی اللّٰہ علیہ وسلم آخرت کے لیے محنت وریاضت کرنے میں اس قدر مشغول ہو گئے کہ اس سے پہلے کبھی نہ ہوۓ تھے

اس سورت کے اندر بڑی عظیم بشارت بھی ہے اور بڑا سبق بھی ، یہ آخری سورت ہے جو نبی کریم ﷺپر نازل ہوئی اس سورت کے نزول کے بعد آپ ﷺدو سال دنیا میں تشریف فرما رہے

اس سورت میں بشارت دی گئی کہ اللّٰہ تعالیٰ کی مدد آنے والی ہے ، اور فتح حاصل ہونے والی ہے ، فتح سے اشارہ مکہ مکرمہ کی فتح ہونے کی طرف ہے ، وہ مکہ مکرمہ جہاں مسلمانوں پر زمین تنگ کی جا رہی تھی ،

ظلم و تشدد کا بازار گرم تھا ، کوئی کلمہ توحید پڑھتا تو اس کو تپتی ہوئی ریت پر لٹایا جاتا ، اس کے سینے پر سلیں رکھی جاتی ، وہ مکہ مکرمہ اب آپ ﷺکے ہاتھوں فتح ہونے والا ہے۔

مکہ مکرمہ کی اس عظیم فتح اور مسلمانوں کی تیرہ سالہ سخت ترین آزمائشوں سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جب انسان اللہ کے دین پر مضبوطی سے قائم رہتا ہے اور ہر ظلم و ستم کے سامنے صبر کا دامن نہیں چھوڑتا،

تو اللہ تعالیٰ کی نصرت اور غیبی مدد لازمی آتی ہے۔ کامیابی کا دارومدار دنیاوی اسباب پر نہیں، بلکہ اللہ پر کامل یقین اور استقامت پر ہے ۔

Surah Nasr Urdu Tafsir

سورۂ نصر کی تاریخی پیش گوئی

جب یہ سورت نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے صحابہ کرام کے سامنے تلاوت فرمائی ، صحابہ کرام نے بڑی خوشیاں منائیں ، کہ اللّٰہ تعالیٰ نے یہ بشارت دی ہے اور انشاء اللّٰہ عنقریب اسلام کو غلبہ حاصل ہوگا۔

چنانچہ ایسے ہی ہوا اللّٰہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ آپ ﷺ کے ہاتھوں ایسے فتح فرمایا کہ خون بھی نہیں بہا اور مکہ مکرمہ فتح بھی ہوگیا ، ، اور اس کے بعد سارے جزیرہ عرب کے قبیلے فوج در فوج آ کر نبی کریم ﷺ کے دین میں داخل ہوئے ۔

سورۂ نصر میں وفاتِ نبوی ﷺ کا اشارہ

اس سورت کے نزول پر سب خوشیاں منا رہے تھے اور ایک بزرگ تھے حضرت عباس رضی اللّٰہ عنہ وہ بیٹھے رو رہے تھے نبی کریم ﷺ نے پوچھا آپ کیوں رو رہے ہیں ، اس سورت سے مجھے یہ پتہ چل رہا ہے کہ آپ ﷺ کے دنیا سے رخصت ہونے کا وقت قریب آ گیا ہے اس لیے میں رو رہا ہوں

نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس سورت میں واقعتاً یہ اشارہ موجود ہے کہ اب وہ وقت قریب آ رہا ہے جب میں دنیا سے چلا جاؤں کیونکہ آنے کا مقصد پورا ہوگیا ہے ، اسلام پھیل گیا ہے ، پورا جزیرہ عرب اسلام کے زیر نگیں آ گیا تو یہ میرے مقصد بعثت کی تکمیل ہو رہی ہے ۔

Surah An Nasr Urdu tafsir

فتح مکہ کے بعد پہلی اذان

جب مکہ مکرمہ فتح ہوگیا اللّٰہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو غلبہ عطا فرمایا ، تو آپ ﷺ نے بیت اللّٰہ میں داخل ہونے کے بعد یہ کیا کہ حضرت بلال رضی اللّٰہ عنہ کو بیت اللّٰہ کی چھت پر کھڑا کر کے اذان دلوائی ، اور پورے مکہ میں حضرت بلال رضی اللّٰہ عنہ کی اذان گونجی ۔

  • آپ ﷺ نے انتقام لینے کی بجائے اور لوگوں کا خون بہانے کی بجائے عام معافی کا اعلان کیا ،
  • اور فرمایا جو مسجد الحرام میں داخل ہو جائے گا اسے امن ہے ،
  • جو اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے اسے امن ہے
  • جو اپنے ہتھیار پھینک دے اسے امن ہے
  • جو ابو سفیان کے گھر داخل ہو جائے اسے امن ہے

وہ بڑے بڑے سردارانِ مکہ جنھوں نے نبی کریم ﷺ کے قتل کرنے اور گرفتار کرنے کی سازشیں کی تھیں ، جنھوں نے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیا تھا ، وہ سب سامنے آئے تو فرمایا تم سب آزاد ہو ، تمھارے سے آج کوئی انتقام نہیں لیا جائے گا ۔

یہ نبی کریم ﷺ کا ظرف تھا کہ تیرہ سال تک جن لوگوں نے ظلم و ستم کی چکی میں پیسا ، جب ان کے اوپر اقتدار حاصل ہوا تو نبی کریم ﷺ نے عام معافی کا اعلان فرما دیا ، کوئی اور ہوتا تو مکہ میں خون کی ندیاں بہہ جاتی ۔

صحابہ کرام فرماتے ہیں ، جب نبی کریم ﷺ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے آپ ﷺ۔ اپنی اونٹنی پر سوار تھے ، اور گردن جھکی ہوئی تھی ، آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ، اور زبان مبارک پر یہ آیات تھیں

إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًۭا مُّبِينًۭا ١
(اے محمدﷺ)
ہم نے تم کو فتح دی۔ فتح بھی صریح وصاف
(Mustafa Khattab,Quran. Com)
Indeed, We have granted you a clear triumph ˹O Prophet˺. 1

((اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا تھا ہم تم کو فتح مبین عطا کرنے والے ہیں))یہ آیات تلاوت فرما رہے تھے ، اور سب کو امن دے دیا ، کسی سے کوئی انتقام نہیں لیا ، یہ ایک ایسی مثال ہے جو دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی نہ ملے گی

اتنے کٹر دشمن ، خون کے پیاسے ، ظلم و تشدد کی چکی میں پسنے والے ، جب ان پر اقتدار حاصل ہوا تو نبی کریم ﷺ نے رحمت کا یہ معاملہ فرمایا

حضور ﷺ کے اس حسنِ سلوک کا نتیجہ یہ ہوا کہ سب بڑے بڑے سردار جو اسلام دشمنی میں بہت کٹر تھے ، وہ بھی اسلام میں داخل ہو گئے ،اور اسلام قبول کیا ، نبی کریم ﷺ کی غلامی اختیار کی،

جن لوگوں نے آپ ﷺکی شان میں گستاخیاں کی تھیں انھوں نے آ کر معافیاں مانگی اور اسلام میں داخل ہوئے ، یہ اعزاز اللّٰہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو عطا فرمایا

Surah Nasr fazail

نبی کریم ﷺ کی عظیم جدوجہد

آپ ﷺ اپنی قوم کو جانتے تھے کہ ضدی قوم ہے آپ ﷺ جانتے تھے کہ یہ لوگ اتنی آسانی سے ماننے والے نہیں ہیں ، ان کو راہِ راست پر لانے کی ذمّہ داری آپﷺ کو سونپی گئی ، اور کل 23 سال کی مدت عطا فرمائی گئی ،۔

اس 23سال کی مدت میں پورا جزیرہ عرب پر توحید کا پرچم لہرا رہا تھا نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کا نور چاروں طرف پھیلا ہوا تھا اتنی عظیم جدوجہد آپ ﷺ نے فرمائی

وطن چھوڑا •

قربانیاں دیں •

فاقے سہے •

جنگیں لڑیں •

جسم پر زخم کھائے •

اس سب کے بعد جب اتنی بڑی فتح حاصل ہوئی، تو اسے اپنی طرف منسوب کرنے کی بجائے فرمایا جا رہا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی حمد کرو ، اللّٰہ تعالیٰ کی تعریف کرو تاکہ تم اللّٰہ تعالیٰ کے شکر گزار بندوں میں لکھے جاؤ

بحثیت رسول بحثیت پیغمبر جو فرائض سونپے گئے تھے وہ سب بطریق احسن آپ ﷺ نے انجام دیے ، اتنا بڑا کارنامہ انجام دیا کہ 23سال کی مدت میں نبی کریم ﷺ نے پورا جزیرہ عرب میں ایسا انقلاب برپا فرمایا کہ اپنے بھی اس پہ حیران ہیں۔

اہلِ عرب کا دورِ جاہلیت اور اسلامی انقلاب

ظہورِ اسلام سے قبل عرب معاشرے میں بے حیائی، فحاشی اور گمراہی کا بازار گرم تھا اور یہ بدترین عادتیں ان کی رگ و پے میں سمائی ہوئی تھیں۔ درندگی اور بربریت ان کا شیوہ بن چکی تھی ۔

لیکن نبی کریم ﷺ نے اس جاہل قوم کی کایا ہی پلٹ دی۔آپ ﷺ نے رات دن کی بے پناہ محنتوں، قربانیوں، فاقوں اور کٹھن جنگوں کے بعد

معاشرے سے بے حیائی اور درندگی کا خاتمہ فرمایا •

لوگوں کے دلوں میں آخرت کی فکر پیدا کی •

اور درندوں جیسی خصلت رکھنے والے انسانوں کو سچا انسان بنا دیا ۔

یہ سارا عظیم الشان انقلاب نبی کریم ﷺ کی بے مثال جدوجہد کے نتیجے میں برپا ہوا۔

عظیم کامیابی کے بعد استغفار کا حکم اور اس کا سبق

اب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ جو اتنا بڑا اور پاکیزہ انقلاب برپا فرمایا، کیا یہ کوئی غلطی تھی جس پر استغفار کا حکم دیا گیا؟ نہیں، بلکہ یہ تو کائنات کا سب سے بڑا کارنامہ تھا، لیکن اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ جب آپ یہ کارنامہ انجام دے چکیں تو اس کے بعد بھی اپنے رب سے استغفار کریں۔

اس حکم میں ہمارے لیے کیا سبق ہے؟

اس میں امت کے لیے یہ عظیم سبق دیا گیا ہے کہ انسان چاہے کیسی ہی بڑی عبادت کیوں نہ کر لے، وہ اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس کی نعمتوں کا حق کبھی ادا نہیں کر سکتا۔

اس لیے ایک سچے مومن کا کام یہ ہے کہ وہ دین کی بڑی سے بڑی خدمت اور نیکی کرنے کے بعد بھی عاجزی کا راستہ اپنائے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگتا رہے کہ:۔

“اے اللہ! اس کام کی انجام دہی میں مجھ سے جو بھی بھول چوک یا کوتاہیاں ہوئی ہوں، انہیں اپنے فضل سے معاف فرما دے۔”

سورۂ نصر کی آخری آیت کا مفہوم اور حکمِ الٰہی

اللہ تعالیٰ اس سورت کی آخری آیت میں ارشاد فرماتا ہے کہ جب اللہ کی غیبی مدد آ جائے اور دین کو مکمل غلبہ حاصل ہو جائے، تو اس عظیم کامیابی پر فخر کرنے کے بجائے اپنے رب کی تسبیح، حمد اور استغفار میں مشغول ہو جائیں۔

یہ حکم دراصل اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ نبی کریم ﷺ کا دنیا میں تشریف لانے کا اصل مقصد اور فریضہ منصبِ نبوت اب مکمل ہو چکا ہے۔ دینِ اسلام پورے عرب میں پھیل چکا ہے، اس لیے اب بارگاہِ الٰہی میں شکر گزاری کرتے ہوئے اپنے رب کی طرف رجوع فرمائیں۔

سورۂ نصر سے ملنے والے اہم عملی اسباق

اس مبارک سورت میں ہمارے لیے زندگی کے کچھ نہایت اہم اور عملی اسباق موجود ہیں، جنہیں اپنانا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔

پہلا سبق: کامیابی کو اللہ کی نصرت سمجھنا

قرآن کریم نے اس سورت میں دو لفظ استعمال فرمائے ہیں؛ “إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ” یعنی جب اللہ کی مدد آ جائے اور فتح حاصل ہو جائے۔

اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب بھی انسان کو کوئی کامیابی حاصل ہو، یا کوئی فتح ملے، تو اس کو سب سے پہلے اس بات کو تسلیم کرنا چاہیے کہ جو کچھ بھی حاصل ہوا ہے وہ میری اپنی قوتِ بازو کا کرشمہ نہیں ہے،

بلکہ یہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی نصرت اور غیبی مدد ہے۔ ایک سچے مومن کا کام یہ ہے کہ جب بھی اسے کوئی کامیابی ملے، وہ اسے اپنی ذات کے بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرے کہ:

“اے میرے اللہ! یہ تیرا ہی فضل ہے کہ تو نے میری مدد فرمائی اور مجھے یہ توفیق عطا فرمائی۔” یہ پہلا عظیم سبق ہے جو ہمیں اس آیت سے ملتا ہے۔

دوسرا سبق: ہر نعمت پر شکر گزاری

زندگی میں چاہے کوئی چھوٹی کامیابی ہو یا بڑی کوئی معمولی نعمت حاصل ہو یا بہت بڑی خوشی ملے

بندے کا کام یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنے رب کا شکر ادا کرے۔ وہ دل سے اعتراف کرے اور زبان سے کہے: “اے اللہ! تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تو نے کرم فرمایا اور یہ توفیق عطا فرمائی۔”

تیسرا سبق: دینِ اسلام کی حقانیت اور غلبہ

مکہ مکرمہ فتح ہونے کے بعد اور لوگوں کے فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے کے بعد نبی کریم ﷺ کو جس طرزِ عمل کی تعلیم دی گئی اس کے خلاصے میں دو باتیں ہیں ایک یہ کہ اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے دوسرا یہ کہ اللّٰہ تعالیٰ سے استغفار کیا جائے

شکر ادا کرنا ایک عظیم عمل ہے

یہ عظیم سبق ہمیں اس سورت مبارکہ سے مل رہا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ایسا عمل ہے جس کے فوائد دنیا اور آخرت دونوں میں ہیں ، اور جسمانی اور روحانی طور پر بھی اتنے عظیم فوائد ہیں جن کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔

  • اس سورت سے جو عظیم سبق ملا وہ یہ کہ ہر حال میں اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں
  • شکر ایسی چیز ہے کسی کو پتہ نہیں چلتا کہ کیا عبادت انجام پا گئ ہے
  • شکر کے نتیجے میں بندہ ریاکاری سے محفوظ ہوگیا
  • تکبر سے محفوظ ہو گیا

عمل کی توفیق پر شکر اور استغفار

  • کتنی بھی بڑی نیکی کر لو کتنی بڑی عبادت تمہارے ہاتھوں سرزد ہو
  • اس پر اکڑ نے اترانے کی بجائے اس پر فخر و ناز میں مبتلا ہونے کی بجائے
  • ایک تو اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرو
  • ساتھ استغفار بھی کرو کہ اے اللّٰہ اس میں جو بھی کوتاہی ہوئی ہو معاف فرما

(Conclusion) خلاصہ

حاصلِ کلام یہ ہے کہ Surah Nasr Urdu Tafsir کے اس تفصیلی مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مختصر سورت اپنے اندر اسلامی تاریخ کا ایک عظیم الشان انقلاب سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ سورت ہمیں سکھاتی ہے کہ کامیابی صرف اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد سے ہی ممکن ہے۔

اگر آپ سورۂ نصر کی تفسیر کو دل سے سمجھیں، تو معلوم ہوگا کہ ایک سچے مسلمان کا شیوہ یہ ہے کہ وہ بڑی سے بڑی کامیابی کے بعد بھی تکبر کا شکار نہ ہو، بلکہ عاجزی اپناتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد اور استغفار میں مشغول ہو جائے۔

سوال 1: سورۂ نصر قرآن کریم کی کون سی سورت ہے اور اس کی کیا اہمیت ہے؟

جواب: سورۂ نصر قرآن مجید کی 110 ویں سورت ہے، جس میں 3 آیات ہیں۔ یہ سورت مدنی ہے اور مکمل طور پر نازل ہونے والی یہ قرآن پاک کی سب سے آخری سورت ہے۔ اس کی تفصیلات آپ کو Surah Nasr Urdu Tafsir کے مستند مضامین میں ملتی ہیں

سوال 2: سورۂ نصر میں “الْفَتْحُ” (فتح) سے کیا مراد ہے؟

جواب: مفسرینِ کرام کے مطابق اس مبارک سورت میں “الفتح” سے مراد “فتحِ مکہ” ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بغیر کسی خون خرابے کے مشرکینِ مکہ پر عظیم الشان تاریخی غلبہ اور فتح عطا فرمائی۔

سوال 3: اس سورت میں نبی کریم ﷺ کو تسبیح اور استغفار کا حکم کیوں دیا گیا؟

جواب: یہ حکم اس بات کی علامت تھا کہ نبی کریم ﷺ کا منصبِ نبوت اور دینِ اسلام کی اشاعت کا مشن اب مکمل ہو چکا ہے۔ اس عظیم کامیابی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور شکر گزاری کے لیے یہ حکم دیا گیا۔

سوال 4: حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے اس سورت کا کیا مفہوم بیان فرمایا تھا؟

جواب: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ واضح فرمایا تھا کہ اس سورت میں دراصل نبی کریم ﷺ کی دنیا سے رخصتی اور وفات کا اشارہ موجود ہے، جس کی تصدیق خود حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بھی فرمائی تھی۔

1 thought on “Surah Nasr Urdu Tafsir| سورہ نصر اردو تفسیر”

Leave a Comment