یہ وہ سورت ہے جو نمازوں میں بکثرت پڑھی جاتی ہے ، اور تقریباً ہر مسلمان کو یاد ہوتی ہے ، اس سورت کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ قرآن کریم کی سب سے آخری سورت ہے جو مکمل نازل ہوئی اس کے بعد کوئی اور سورت مکمل نازل نہیں ہوئی ۔
اس تفصیلی مضمون میں ہم Surah Nasr Urdu Tafsir، اس کا پسِ منظر، تاریخ اور فضائل احادیث کی روشنی میں تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ قاری کو مکمل معلومات ایک ہی جگہ مل سکیں。
بشارت اور سبق
اس سورت کے اندر بڑی عظیم بشارت بھی ہے اور بڑا سبق بھی ، اللّٰہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ جب اللّٰہ تعالیٰ کی مدد أ جاۓ اور فتح حاصل ہو جائے ، اور آپ ﷺ دیکھیں کہ لوگ اللّٰہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں
تو پھر اپنے پروردگار کی تسبیح اور حمد کیجئے اور اسی سے استغفار کیجئے یقیناً اللّٰہ تعالیٰ بہت توبہ قبول کرنے والا اور بڑا معاف کرنے والا ہے ، یہ آخری سورت ہے جو نبی کریم ﷺپر نازل ہوئی اس سورت کے نزول کے بعد آپ ﷺدو سال دنیا میں تشریف فرما رہے
سورۂ نصر میں پیشن گوئی
اس سورت میں پیشن گوئی فرمائی گئی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی مدد آنے والی ہے ، اور فتح حاصل ہونے والی ہے ، فتح سے اشارہ مکہ مکرمہ کی فتح ہونے کی طرف ہے ، وہ مکہ مکرمہ جہاں مسلمانوں پر زمین تنگ کی جا رہی تھی ،
ظلم و تشدد کا بازار گرم تھا ، کوئی کلمہ توحید پڑھتا تو اس کو تپتی ہوئی ریت پر لٹایا جاتا ، اس کے سینے پر سیلیں رکھی جاتی ، وہ مکہ مکرمہ اب آپ ﷺکے ہاتھوں فتح ہونے والا ہے اور آپ ﷺ لوگوں کو دیکھیں گے کہ فوج در فوج اللّٰہ تعالیٰ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں
پیشن گوئی مکمل اور فتح مکہ
چنانچہ ایسے ہی ہوا اللّٰہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ آپ ﷺ کے ہاتھوں ایسے فتح فرمایا کہ خون بھی نہیں بہا اور مکہ مکرمہ فتح بھی ہوگیا ، ، اور اس کے بعد سارے جزیرہ عرب کے قبیلے فوج در فوج آ کر نبی کریم ﷺ کے دین میں داخل ہوئے

فتح مکہ کے بعد پہلی اذان
جب مکہ مکرمہ فتح ہوگیا اللّٰہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو غلبہ عطا فرمایا ، تو آپ ﷺ نے بیت اللّٰہ میں داخل ہونے کے بعد یہ کیا کہ حضرت بلال رضی اللّٰہ عنہ کو بیت اللّٰہ کی چھت پر کھڑا کر کے اذان دلوائی ، اور پورے مکہ میں حضرت بلال رضی اللّٰہ عنہ کی اذان گونجی
سورۂ نصر،نبی کریم ﷺ کا ظرف
- آپ ﷺ نے انتقام لینے کی بجائے اور لوگوں کا خون بہانے کی بجائے عام معافی کا اعلان کیا ،
- اور فرمایا جو مسجد الحرام میں داخل ہو جائے گا اسے امن ہے ،
- جو اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے اسے امن ہے
- جو اپنے ہتھیار پھینک دے اسے امن ہے
- جو ابو سفیان کے گھر داخل ہو جائے اسے امن ہے
وہ بڑے بڑے سردارانِ مکہ جنھوں نے نبی کریم ﷺ کے قتل کرنے اور گرفتار کرنے کی سازشیں کی تھیں ، جنھوں نے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیا تھا ، وہ سب سامنے آئے تو فرمایا تم سب آزاد ہو ، تمھارے سے آج کوئی انتقام نہیں لیا جائے گا
یہ نبی کریم ﷺ کا ظرف تھا کہ تیرہ سال تک جن لوگوں نے ظلم و ستم کی چکی میں پیسا ، جب ان کے اوپر اقتدار حاصل ہوا تو نبی کریم ﷺ نے عام معافی کا اعلان فرما دیا ، کوئی اور ہوتا تو مکہ میں خون کی ندیاں بہہ جاتی
نبی کریم ﷺ کا بے مثال حسنِ سلوک
صحابہ کرام فرماتے ہیں ، جب نبی کریم ﷺ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے آپ ﷺ۔ اپنی اونٹنی پر سوار تھے ، اور گردن جھکی ہوئی تھی ، آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ، اور زبان مبارک پر یہ آیات تھیں
إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًۭا مُّبِينًۭا ١
(اے محمدﷺ)
ہم نے تم کو فتح دی۔ فتح بھی صریح وصاف
(Mustafa Khattab,Quran. Com)
Indeed, We have granted you a clear triumph ˹O Prophet˺. 1
((اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا تھا ہم تم کو فتح مبین عطا کرنے والے ہیں))یہ آیات تلاوت فرما رہے تھے ، اور سب کو امن دے دیا ، کسی سے کوئی انتقام نہیں لیا ، یہ ایک ایسی مثال ہے جو دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی نہ ملے گی
اتنے کٹر دشمن ، خون کے پیاسے ، ظلم و تشدد کی چکی میں پسنے والے ، جب ان پر اقتدار حاصل ہوا تو نبی کریم ﷺ نے رحمت کا یہ معاملہ فرمایا
نبی کریم ﷺ کو اللّٰہ تعالیٰ کا اعزاز
حضور ﷺ کے اس حسنِ سلوک کا نتیجہ یہ ہوا کہ سب بڑے بڑے سردار جو اسلام دشمنی میں بہت کٹر تھے ، وہ بھی اسلام میں داخل ہو گئے ،اور اسلام قبول کیا ، نبی کریم ﷺ کی غلامی اختیار کی،
جن لوگوں نے آپ ﷺکی شان میں گستاخیاں کی تھیں انھوں نے آ کر معافیاں مانگی اور اسلام میں داخل ہوئے ، یہ اعزاز اللّٰہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو عطا فرمایا
سورۂ نصر ، پس منظر
غزوہِ خیبر کے بعد قرآن کریم نے جو نقشہ کھینچا تھا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی مدد آنے والی ہے ، مکہ مکرمہ فتح ہونے والا ہے ، تم آنکھوں سے دیکھو گے کہ لوگ اللّٰہ تعالیٰ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں
حرف بہ حرف آنکھوں سے لوگوں کو دیکھ لیا فتح مکہ سے بہت پہلے یہ منظر نبی کریم ﷺ کے سامنے کھینچ دیا گیا تھا ، کیونکہ اس میں پیشن گوئی تھی کہ عنقریب مسلمانوں کو عظیم فتح حاصل ہونے والی ہے
- اس سورت سے یہ پتہ چل رہا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے دنیا سے رخصت کا وقت قریب آ گیا ہے ،
- اپﷺکو اللّٰہ تعالیٰ نے اس لئے بھیجا تھا کہ مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہو
- اسلذم کو غلبہ حاصل ہو
- اسلام پھیل جائے
- اب اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا کہ
- آپ ﷺ کے دنیا میں تشریف لانے کا مقصد پورا ہونے والا ہے
- اللّٰہ تعالیٰ آپ ﷺ کو اپنے پاس بلا لیں گے
- اسی لئے اس میں آپ ﷺ کو تسبیح اور حمد اور استغفار کی تلقین فرمائی گئی ۔
اللّٰہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہوئے اس کی تسبیح کرو ، اب اندازہ لگائیے نبی کریم ﷺ نے 23 سال کیا جانفشانی کے ساتھ محنت فرمائی ہے زرا تصور تو کریں ایک جزیرہ عرب جاہلیت میں ڈوبا ہوا ہے ، کوئی خرابی ایسی نہیں جو اس معاشرے کے اندر نہ پائی جاتی ہو
غرض کوئی ایسی برائی نہیں جو وہاں موجود نہ ہو وہاں تنِ تنہا ایک فرد کے اوپر ذمہ داری ڈالی جا رہی ہے کہ اس پورے جزیرہ عرب کو بدلنا ہے ، ، پھر پورے عربی جزیرے کو نہیں بلکہ پوری دنیا کو بدلنا ہے ، آپ ﷺ کے اوپر یہ فریضہ عائد فرمایا گیا یہ اتنی بڑی ذمہ داری تھی

نبی کریم ﷺ کی عظیم جدوجہد
آپ ﷺ اپنی قوم کو جانتے تھے کہ ضدی قوم ہے آپ ﷺ جانتے تھے کہ یہ لوگ اتنی آسانی سے ماننے والے نہیں ہیں ، ان کو راہِ راست پر لانے کی ذمّہ داری اپﷺ کو سونپی گئی ، اور کل 23 سال کی مدت آپ ﷺکو عطا فرمائی گئی
اس 23سال کی مدت میں پورا جزیرہ عرب توحید کے پرچم سے لہرا رہا تھا نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کا نور چاروں طرف پھیلا ہوا تھا اتنی عظیم جدوجہد آپ ﷺ نے فرمائی ،
- وطن چھوڑا
- قربانیاں دیں
- فاقے سہے
- جنگیں لڑیں
- جسم پر زخم کھائے
یہ سب کرنے کے بعد فتح حاصل ہوئی تو اپنی طرف منسوب کرنے کی بجائے فرمایا جا رہا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی حمد کرو ، اللّٰہ تعالیٰ کی تعریف کرو تاکہ تم اللّٰہ تعالیٰ کے شکر گزار بندوں میں لکھے جاؤ
فتح مکہ کے بعد دی گئی تعلیم، ( تیسرا سبق)
مکہ مکرمہ فتح ہونے کے بعد اور لوگوں کے فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے کے بعد نبی کریم ﷺ کو جس طرزِ عمل کی تعلیم دی گئی اس کے خلاصے میں دو باتیں ہیں
- ایک یہ کہ اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے
- دوسرا یہ کہ اللّٰہ تعالیٰ سے استغفار کیا جائے
توفیق عمل پر شکر اور استغفار
پہلی بات واضح ہے کہ ہر ملنے والی کامیابی کو اللّٰہ تعالیٰ کا فضل سمجھیں ، اور اللّٰہ تعالیٰ کے فضل وکرم پر شکر ادا کریں پھر دوسری بات فرمائی گئی اللّٰہ تعالیٰ سے استغفار کیجئے
استغفار کے معنی ہیں مغفرت مانگنا اور عام طور پر مغفرت اس وقت مانگی جاتی ہے جبکہ انسان سے کوئی غلطی ہوئی ، کوئی گناہ سرزد ہوا یہاں یہ سوچنے کی بات ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے سب کام اللّٰہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق انجام دے دیا
بحثیت رسول بحثیت پیغمبر کے جو فرائض سونپے گئے تھے وہ سب بطریق احسن آپ ﷺ نے انجام دیے ، اتنا بڑا کارنامہ انجام دیا کہ 23سال کی مدت میں نبی کریم ﷺ نے پورا جزیرہ عرب میں ایسا انقلاب برپا فرمایا کہ اپنے بھی اس پہ حیران ہیں
نبی کریم ﷺ کے عظیم کارنامے
- وہ قوم جو جہالت میں ڈوبی ہوئی تھی
- اس قوم کو نہ صرف سیدھا راستہ دکھایا
- بلکہ ان کو بت پرستی سے بھی بچایا
- اللّٰہ تعالیٰ کی توحید پر ان کو قائل کیا
- ان کے اخلاق سنوارے
- ان کی بری عادتیں ان سے چھڑوائی
- وہ عادتیں جو ان کے رگ و پے میں بسی ہوئی تھیں
- وہ عادتیں نبی کریم ﷺ نے چھڑوائیں
اہلِ عرب، دورِ جہالت ، اور بے حیائی
- دوسرا یہ کہ بے حیائی اور فحاشی کا بازار گرم تھا
- جو قوم اس طرح گمراہی میں پڑی ہوئی تھی
- یہ عادتیں رگ و پے میں سمائی ہوئی تھیں
- نبی کریم صلی نے انکو اکھاڑ دیا
- اخرت کی فکر پیدا کر دی
- انسان کو انسان بنا دیا
- درندگی اور بربریت جو ان کے اندر سمائی ہوئی تھی اسکو نکال پھینکا
- یہ سارا انقلاب نبی کریم ﷺ نے برپا فرمایا
- محنتیں کیں ، قربانیاں دیں ، فاقے سہے ،
- جنگیں لڑیں ، جان و مال کی قربانیاں دیں
یہ جو انقلاب برپا فرمایا کوئی گناہ تھا ؟ یہ کوئی غلطی تھی جس پر استغفار کیا جائے ، نہیں بلکہ یہ تو بڑا عظیم کارنامہ تھا لیکن اللّٰہ تعالیٰ فرما رہے ہیں جب آپ ﷺ نے یہ کارنامہ انجام دے دیا تو اس کے بعد بھی استغفار کرو
(بحوالہ مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ))
- اللّٰہ تعالیٰ کی بندگی کا حق کوئی ادا کر ہی نہیں سکتا
- چاہے کیسی ہی عبادت کرے
- کتنی بھی نیکی کر لے
- لیکن اس کا حق ادا نہیں ہوسکتا
- کوئی بھی شخص کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ کی بندگی کا حق ادا نہیں کر سکتا
- لہٰذا اس کا کام یہ ہے کہ
- باوجود بندگی کرنے کے باوجود عبادت کرنے کے
- اللّٰہ تعالیٰ سے مغفرت مانگے
سورۂ
تو اس سورت میں کیا سبق دیا ہمیں ؟۔ اس میں یہ سبق دیا گیا ہے کہ انسان چاہے کیسی ہی عبادت کیوں نہ کر لے لیکن اللّٰہ تعالیٰ کی بندگی کا حق کوئی ادا نہیں کر سکتا ،
اس کی نعمتوں کا حق ادا نہیں ہو سکتا ، اس لئے بندے کا کام یہ ہے کہ کرتا بھی جائے اور ساتھ ساتھ اللّٰہ تعالیٰ سے مغفرت بھی مانگتا جائے ، کہ اے اللّٰہ اس کام میں مجھ سے جو کوتاہیاں ہوئی ہوں اس کو معاف کر دے
حدیث شریف قبولیت کا نسخہ
حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم ، اتنا لمبا سجدہ اتنی عبادت فرما رہے ہیں
رات کے وقت میں کھڑے ہو کر پھر بھی فرما رہے ہیں ، اے اللّٰہ ہم آپکی معرفت کا حق ادا نہیں کر سکتے آپکی عبادت کا حق ادا نہیں کر سکے پاؤں پھٹ رہے ہیں ساری رات کھڑے رہے ورم آ رہا ہے
پھر بھی فرما رہے ہیں اے اللّٰہ ہم آپکی عبادت کا حق ادا نہیں کر سکے ، تو اس میں تعلیم یہ دی گئی ہے کہ
- کتنی بھی بڑی نیکی کر لو
- کتنی بڑی عبادت تمھارے ہاتھوں سرزد ہو
- اس پر اکڑ نے اترانے کی بجائے
- اس پر فخر و ناز میں مبتلا ہونے کی بجائے
- ایک تو اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو
- اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرو
- ساتھ استغفار بھی کرو
- کہ اے اللّٰہ اس میں جو کوتاہی ہوئی معاف فرما
سورۂ نصر میں پیشن گوئی
جب یہ سورت نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے صحابہ کرام کے سامنے تلاوت فرمائی ، صحابہ کرام نے بڑی خوشیاں منائیں ، کہ اللّٰہ تعالیٰ نے یہ بشارت دی ہے اور انشاء اللّٰہ عنقریب اسلام کو غلبہ حاصل ہوگا۔
اس سورت کے نزول پر سب خوشیاں منا رہے تھے اور ایک بزرگ تھے حضرت عباس رضی اللّٰہ عنہ وہ بیٹھے رو رہے تھے نبی کریم ﷺ نے پوچھا آپ کیوں رو رہے ہیں ، اس سورت سے مجھے یہ پتہ چل رہا ہے کہ آپ ﷺ کے دنیا سے رخصت ہونے کا وقت قریب آ گیا ہے اس لیے میں رو رہا ہوں

بعثت کا مقصد غلبہ اسلام
نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس سورت میں واقعتاً یہ اشارہ موجود ہے کہ اب وہ وقت قریب آ رہا ہے جب میں دنیا سے چلا جاؤں کیونکہ آنے کا مقصد پورا ہوگیا ہے ، اسلام پھیل گیا ہے ، پورا جزیرہ عرب اسلام کے زیر نگیں آ گیا تو یہ میرے مقصد بعثت کی تکمیل ہو رہی ہیں
فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ وَاسۡتَغۡفِرۡہُ
جب یہ دیکھ لو کہ اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے فتح آئی تو اب اللّٰہ تعالیٰ کی تسبیح ، حمد اور استغفار میں لگ جاؤ ، کیونکہ آپ ﷺ کے آنے کا مقصد پورا ہو گیا ہے ، آپ ﷺ نے اپنا فریضہ منصبی ادا کر دیا ہے اب اپنا رجوع اللّٰہ تعالیٰ کی طرف کرو
نبی کریم ﷺ کا عمل
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتی ہیں اس سورت کے نازل ہونے کے بعد نبی کریم ﷺ نمازوں میں ، سجدوں میں ، رکوع میں یہ جملہ بکثرت پڑھا کرتے تھے ” سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَبِـحَمْدِكَ ، اَسْتَغْفِرُکَ و اَتوبُ الیہ
سورۂ نصر کا پہلا سبق
اس سورت میں ہمارے لئے عملی طور پر کچھ سبق ہیں ، پہلا سبق یہ ہے کہ قرآن کریم نے دو لفظ استعمال فرماۓ ہیں ، ” اذا جـآء نصر اللہ والفتح” ٫ “‘ جب اللّٰہ کی مدد آ جائے اور فتح آ جائے”:٫ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب بھی انسان کو کوئی کامیابی حاصل ہو
کوئی فتح ملے تو اس کو پہلے اس بات کو تسلیم کرنا چاہیے کہ جو کچھ مل رہا ہے جو کامیابی ہمیں مل رہی ہے یہ میری قوت بازو کا کرشمہ نہیں ہے بلکہ یہ اللّٰہ تعالیٰ کی نصرت اور مدد ہے ، ایک مومن کا کام یہ ہے کہ
جب۔ بھی کوئی کامیابی ملے اسکو اللّٰہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرے ، کہ میرے اللّٰہ نے میری مدد فرمائی ، مجھے یہ توفیق عطا فرمائی ، یہ پہلا سبق دیا ہمیں اس آیت نے ‘” اذا جـآء نصر اللہ والفتح” ٫
سورۂ نصر کا دوسرا سبق
دوسرا سبق جو ہمیں اس سورۂ مبارکہ سے مل رہا ہے کہ چھوٹی کامیابی ہو یا بڑی ، چھوٹی نعمت حاصل ہو یا بڑی نعمت ، چھوٹی خوشی ملے یا بڑی ، بندے کا کام یہ ہے کہ سب سے پہلے اپنے رب کا شکر ادا کرے ، کہے کہ اے اللّٰہ آپ کا شکر کہ آپ نے یہ توفیق عطا فرمائی
شکر ادا کرنا ایک عظیم عمل ہے
یہ عظیم سبق ہمیں اس سورت مبارکہ سے مل رہا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ایسا عمل ہے جس کے فوائد دنیا اور آخرت دونوں میں ہیں ، اور جسمانی اور روحانی طور پر بھی اتنے عظیم فوائد ہیں جن کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے
- اس سورت سے جو عظیم سبق ملا وہ یہ کہ ہر حال میں اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں
- شکر ایسی چیز ہے کسی کو پتہ نہیں چلتا کہ کیا عبادت انجام پا گئ ہے
- شکر کے نتیجے میں بندہ ریاکاری سے محفوظ ہوگیا
- تکبر سے محفوظ ہوگیا
- اللّٰہ تعالیٰ کی رحمتوں کا مورد بنا دیا
- Surah Nasr ke Fazilat, اگر ہم اس سورت مبارکہ سے ملنے والے سبق کے مطابق عمل کریں
- تو اللّٰہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اس کے لئے آخرت میں جنت ہی جنت ہے
- surah nasr ke khsusiyat kiu
- surah An Nasr ke Fazilat, یہ قرآن کریم کی سب سے آخری سورت ہے جو مکمل نازل ہوئی
سورۂ نصر کا سبق ، سوال ، 3
- surah An Nasr ke Fazilat, ہر حال میں اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی عادت ڈالیں
- حسنِ سلوک کا نتیجہ اور جوق در جوق قبولِ اسلام
- “بارگاہِ رسالت سے دشمنوں کے لیے رحمت کا معاملہ” کر سک
- تپیش گوئی کی تکمیل اور مکہ کی فتح” کر دیں
- ۔فتح مکہ پر نبی کریم ﷺ کا بے مثال ظرف اور عام معافی” کری
- ںسورۂ نصر کی تاریخی پیش گوئی اور فتح مکہ (
سورۂ نصر میں مسلمانوں کے لیے بشارت اور سبق” زیادہ مناسب رہے گا۔
1 thought on “Surah Nasr Urdu Tafsir| سورہ نصر تفسیر اور فضیلت”