Surah An Naba Tafsir in Urdu|سورۂ نبا اُردو ترجمہ تفسیر

تعارف سورۂ النبـا

Contents hide

سورۂ نبا میں اللّٰہ تعالیٰ نے مرنے کے بعد دوبارہ زندگی کا ذکر فرمایا ہے، اپنی قدرت کا تذکرہ فرمایا ہے اس کے نظارے پیش کئیے ہیں، اور کل کے انجام یعنی قیامت کے قائم ہونے کا بیان بھی ہے۔

آج ہم اس مضمون میں Surah An Naba Tafsir in Urdu (سورہ نبا کی اردو تفسیر) کو تفصیل سے سمجھیں گے ۔

Surah an Naba Tafsir in Urdu|verse by verse

پہلی 5 آیات قیامت کی عظیم خبر کے بارے میں باہم سوالات کے بارے میں ہیں کہ لوگ اختلافات کر رہے ہیں، بتایا گیا ہے کہ قیامت تو برپا ہو کر رہے گی۔

آیات 6 تا 16 میں اللّٰہ تعالیٰ کی قدرتیں اور نعمتیں بیان کی گئی ہیں، آسمان سے اللّٰہ تعالیٰ بارش برساتا ہے، زمین و آسمان کا خالق اللّٰہ ہے، وہی اللّٰہ ہے جو قیامت کو برپا کرے گا۔

آیات 17 تا 30 میں روزِ قیامت سرکشوں پر عذاب، بلکہ شدتِ عذاب کا بیان ہے، جہنمیوں کو کھولتا ہوا پانی اور پیپ پینا پڑے گا۔

آیات 31 تا 36 متقیوں کا حسین انجام، اللّٰہ تعالیٰ کے نیک اور فرمانبردار بندے، ان کے لئے بے حساب رزق عطا کرنے کا ذکر ہے۔

آیات 37 تا 40 میں میدانِ حشر کا منظر ہوگا، اور کافر یہ چاہے گا کہ وہ مٹی ہوتا اور اس کو دوبارہ کھڑا نہ کیا جاتا۔

آج ہم اس جامع Surah An Naba Tafsir in Urdu کے مضمون میں مکہ میں نازل ہونے والی اس سورت کے پس منظر کو سمجھیں گے۔

آیت : 1 تا 10

عَمَّ يَتَسَآءَلُونَ : (1)
لفظ بہ لفظ معنی
عَمَّ : کس چیز کے بارے میں•
يَتَسَآءَلُونَ : وہ ایک دوسرے سے سوال کر رہے ہیں۔

ترجمہ :(یہ)لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ English translation: What are they asking one another about?

عَنِ ٱلنَّبَإِ ٱلْعَظِیمِ :(2 )
عَنِ : بارے میں •
ٱلنَّبَإِ :اس خبر کے •
ٱلْعَظِیمِ: جو بڑی ہے •

ترجمہ : (کیا) بڑی خبر کی نسبت؟       
About the momentous news،

(3) ٱلَّذِى هُمْ فِيهِ مُخْتَلِفُونَ

ٱلَّذِى: وہ جو •
هُمْ: وہ •
فِيهِ: اس میں •
مُخْتَلِفُونَ: اختلاف کر رہے ہیں •

ترجمہ : جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں 
over which they disagree۔

كَلَّا سَيَعْلَمُونَ (4)
(5) ثُمَّ كَلَّا سَيَعْلَمُونَ

كَلَّا : ہرگز نہیں •

سَيَعْلَمُونَ : وہ عنقریب جان لیں گے •

ثُمَّ: پھر •

ترجمہ : دیکھو یہ عنقریب جان لیں گے ! ۴
But no! They will come to know.
پھر دیکھو یہ عنقریب جان لیں گے ! ۵
Again, no! They will come to know.

(6) :أَلَمْ نَجْعَلِ ٱلْأَرْضَ مِهَـٰدًا

أَلَمْ : کیا نہیں •

نَجْعَلِ : ہم نے بنایا •

ٱلْأَرْضَ :زمین کو •

مِهَـٰدًا : فرش •

ترجمہ : کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا 
Have We not smoothed out the earth ˹like a bed˺,

(7) وَٱلْجِبَالِ أَوْتَادًا

وَٱلْجِبَالِ: اور پہاڑوں کو •

أَوْتَادًا : میخیں •

ترجمہ : اور پہاڑوں کو (ا س کی) میخیں (نہیں ٹھہرایا؟)
and ˹made˺ the mountains as ˹its˺ pegs,

(8) وَخَلَقْنَـٰكُمْ أَزْوَٰجًا

وَخَلَقْنَـٰكُمْ : اور پیدا کیا ہم نے تم کو •

أَزْوَٰجًا: جوڑوں کی شکل میں •

 ترجمہ! ( بے شک بنایا)اور تم کو جوڑا جوڑابھی پیدا کیا 
and created you in pairs,

(9) وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا

وَجَعَلْنَا :اور بنایا ہم نے •

نَوْمَكُمْ : تمہاری نیند کو •

سُبَاتًا : آرام کا ذریعہ •

ترجمہ! اور نیند کو تمہارے لیے (موجب) آرام بنایا
and made your sleep for rest

(10) وَجَعَلْنَا ٱلَّيْلَ لِبَاسًا •

وَجَعَلْنَا : اور بنایا ہم نے •

ٱلَّيْلَ : رات کو •

لِبَاسًا : لباس/ پردہ پوش •

ترجمہ ! اور رات کو پردہ مقرر کیا
and made the night as a cover,
(The clear Quran)
Surah an Naba meaning words by words
اردو تفسیر سورۂ النبـا

( تفسیر سورۂ النبـا ( آیت 1 تا 10

یہ سورت مکی ہے اور مکہ میں جو سورتیں نازل ہوئیں ان میں زیادہ تر قیامت کا تذکرہ ہے، تاکہ عقیدہ درست کیا جا سکے، جب نبی کریم ﷺ نے بتایا کہ قیامت قائم ہوگی مر کر مٹی ہو کر ختم نہیں ہو جاتے۔

عنقریب ان کو پتہ چل جائے گا، آگے اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے دلائل دے رہے ہیں جنہیں ہم اس Surah An Naba Tafsir in Urdu میں آگے تفصیل سے پڑھیں گے۔

پسِ منظر اور منکرینِ قیامت کا مذاق

دوبارہ صور پھونکا جائے گا اور اللّٰہ کے سامنے سب نے کھڑا ہونا ہے، تو وہ سب مذاق اڑاتے تھے، اور نبی کریم ﷺ کے اس دعویٰ کا مذاق اڑا کر ایک دوسرے سے پوچھتے تھے کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟

کیسی باتیں کہہ رہے ہیں کہ مر کر ختم ہونے کے بعد دوبارہ ذندہ ہونگے، یہ کیسی باتیں ہیں، تو اللّٰہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نبی کریم ﷺپر نازل کیں۔

فرمایا:عَمَّ یَتَسَاَلُوْنَ کس سلسلے میں ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں، پھر اللّٰہ تعالیٰ نے خود ہی جواب دیا عَنِ ٱلنَّبَإِ ٱلْعَظِیمِ : بہت بڑی خبر ہے جس کے بارے میں ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں ؟

ٱلَّذِى هُمْ فِيهِ مُخْتَلِفُونَ : یہ وہ خبر ہے جس کے بارے میں وہ آپس میں اختلاف کر رہےہیں، کچھ ایمان لا رہے ہیں کہہ رہے ہیں نبی کریم ﷺ کا دعویٰ درست ہے اور کچھ کہہ رہے ہیں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا دعویٰ غلط ہے، تو وہ اختلاف کر رہے ہیں

منکرینِ قیامت کو تنبیہ اور وعید

کلَّا ۔۔۔ ہرگز ایسا نہیں ہے یعنی یہ جو اختلاف کر رہے ہیں یہ قابل اختلاف چیز نہیں ہے، “سَيَعْلَمُونَ ” عنقریب انہیں پتہ چل جائے گا۔

کلا۔۔۔ ہرگز ایسا نہیں ہے، یہاں سے ” Surah An Naba Tafsir in Urdu” کا وہ اہم حصہ شروع ہوتا ہے جہاں اختلاف کرنے والوں کو تنبیہ کی جا رہی ہے۔
ثُمَّ ” اللّٰہ تعالیٰ پھر اپنی بات کو دوبارہ تکرار کرتے ہیں ” ثُمَّ ” ہرگز ایسا نہیں ہے جیسے یہ کہہ رہے ہیں ۔ عنقریب ان کو پتہ چل جائے گا۔

اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل اور نشانیاں

آگے اللّٰہ تعالیٰ دلائل دے رہے ہیں اللّٰہ فرماتا ہے یہ کیسے اختلاف کر رہے ہیں کہ قیامت قائم نہیں ہوگی آگر قیامت قائم نہیں ہوگی تو لوگوں کا حساب کتاب بھی نہیں ہوگا؟

اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ قابلِ اختلاف چیز نہیں ہے سب کو اس پہ ایمان لانا چاہیئے کہ قیامت قائم ہوگی اور حساب کتاب لیا جائے گا۔ سیعلمون عنقریب جان لو گے۔


:أَلَمْ نَجْعَلِ ٱلْأَرْضَ مِهَـٰدًا۔ کیا ہم نے زمین کو تمہارے لئے بچھونا نہیں بنایا اتنی بڑی زمین تمہارے رہنے کے لیئے بنائی یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔

جس رب نے اتنے بڑے احسانات کئے اس کی طاقت اور قدرت یہ ہے طاقت سے پتہ چلتا ہے کہ جو زمین کو بچھونا بنا سکتا ہے وہ مردوں کو دوبارہ بھی زندہ کر سکتا ہے.

کائنات کی تخلیق میں انسانوں کے لیے اسباق

اور احسانات سے پتہ چلتا ہے کہ جس نے اتنے بڑے بڑے احسانات کئے وہ تم سے حساب لینے کا حق بھی رکھتا ہے، احسانات کے بھی تقاضے ہیں جب کوئی احسان کرتا ہے تو احسان کرنے والے کا شکر ادا کرنا چاہئیے، اللّٰہ کے احکامات پر عمل کرنا یہی اللّٰہ کا شکر ادا کرنا ہے

وَٱلْجِبَالِ أَوْتَادًا : اور پہاڑوں کو میخیں بنا دیا، قرآن میں ایک اور جگہ بھی آتا ہے کہ زمین کا توازن برقرار رکھنے کا ذریعہ پہاڑ ہیں، پہاڑوں سے زمین کا توازن قائم ہے ورنہ بہت زلزلے آتے ۔

و خلقنکم ازواجا : ہم نے تمہیں پیدا کیا جوڑوں کی شکل میں، اللّٰہ فرماتا ہے کی ہم نے تم پر اتنا بڑا احسان کیا ایک ہی جنس میں پیدا کرنے کی بجائے جوڑے بنا کر پیدا کیا ۔

تاکہ تمہارا نظام زندگی چلتا رہے، نسل بڑھتی رہے یہ بھی اللّٰہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے۔ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے خود تم ہی میں سے تمہارے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے اپنی مہربانی سے تم میں آپس میں محبت اور رحم ڈال دیا “۔

نیند اور رات کی نعمت میں پوشیدہ حکمت

وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا: اور تمہارے لئے نیند کو ہم نے سکون کا ذریعہ بنا دیا ۔ ہم کام نہ کر کے جسم کے اعضاء کو سکون دے سکتے ہیں لیکن دماغ کا کام سوچنا ہے جس پر ہمارا کنٹرول نہیں

جب انسان سوتا ہے تو اس کے دماغ کا رابطہ کچھ دیر کے لئے دنیا سے ٹوٹ جاتا ہے تو اللّٰہ تعالیٰ نے نیند کو سکون کا ذریعہ بنایا ۔ اللّٰہ فرماتا ہے ہماری قدرت ہے کہ سارے جسم کو آرام دینا تو کچھ تمہارے اختیار میں ہے

لیکن دماغ کا آرام تمہارے اختیار میں نہیں، لہذا ہم نے تم پر نیند مسلط کر دی پھر انسان تروتازہ ہو کر اٹھتا ہے یہ بھی اللّٰہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے ۔

وَجَعَلْنَا ٱلَّيْلَ لِبَاسًا: اور ہم نے رات کو لباس بنایا یعنی نیند کے لیے رات بنائی جس سے اور زیادہ سکون کی نیند آتی ہے۔ مفسرین نے Surah An Naba Tafsir in Urdu کے اس حصے میں نیند کے اس فلسفے کو بہت خوبصورت انداز میں واضح کیا ہے۔

“آیات: 11 تا 20 “بامحاورہ ترجمہ

(11) : وَجَعَلْنَا ٱلنَّهَارَ مَعَاشًا

وَجَعَلْنَا: اور بنایا ہم نے •

ٱلنَّهَارَ : دن کو •

مَعَاشًا : معاش کا وقت •

 ترجمہ  :  اور دن کو معاش (کا وقت) قرار دیا
and made the day for livelihood,

(12) وَبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًا

وَبَنَيْنَا : اور بناۓ ہم نے •

فَوْقَكُمْ : تمہارے اوپر •

سَبْعًا : سات •

شِدَادًا : سخت / مظبوط •

ترجمہ : اور تمہارے اوپر سات مضبوط (آسمان) بنائے 
and built above you seven mighty ˹heavens˺,

(13). وَجَعَلْنَا سِرَاجًا وَهَّاجًا

وَجَعَلْنَا : اور ہم نے بنایا •

سِرَاجًا: سورج •

وَهَّاجًا : روشن ہونے والا •

ترجمہ :  اور ( آفتاب کا )روشن چراغ بنایا 
and placed ˹in them˺ a shining lamp,
(The Clear Quran)

(14) وَأَنزَلْنَا مِنَ ٱلْمُعْصِرَٰتِ مَآءً ثَجَّاجًا

وَأَنزَلْنَا : اور نازل کیا ہم نے •

ٱلْمُعْصِرَٰتِ : بادلوں •

مِنَ : سے •

مَآءً : پانی •

ثَجَّاجًا : بکثرت •

 ترجمہ: اور نچڑتے بادلوں سے موسلا دھار مینہ برسایا
and sent down from rainclouds pouring water,

لِّنُخْرِجَ بِهِۦ حَبًّا وَنَبَاتًا (15)

تاکہ ہم نکالیں: لِّنُخْرِجَ •

بِهِۦ : اس کے ساتھ •

حَبًّا : غلہ •

وَنَبَاتًا : اور نباتات •

 ترجمہ : تاکہ اس سے اناج اور سبزہ پیدا کریں
producing by it grain and ˹various˺ plants

(16 ) وَجَنَّـٰتٍ أَلْفَافًا

وَجَنَّـٰتٍ : اور باغات •

أَلْفَافًا۔ : لپٹے ہوئے/گھنے •

 ترجمہ : اور گھنے گھنے باغات 
and dense orchards

(17) إِنَّ يَوْمَ ٱلْفَصْلِ كَانَ مِيقَـٰتًا

إِنَّ : بے شک •
يَوْمَ : دن •
ٱلْفَصْلِ: فیصلے کا •
كَانَ : ہے •
مِيقَـٰتًا : مقرر •

بےشک فیصلہ کا دن مقرر ہے
Indeed, the Day of ˹Final˺ Decision is an appointed time

(18) يَوْمَ يُنفَخُ فِى ٱلصُّورِ فَتَأْتُونَ أَفْوَاجًا

يَوْمَ : جس دن •
يُنفَخُ : پھونک مار دی جائے گی •
فِى : میں •
ٱلصُّورِ : صور •
فَتَأْتُونَ: تو تم آؤ گے •
أَفْوَاجًا: فوج در فوج •

˹ترجمہ :جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم لوگ غٹ کے غٹ آ موجود ہوگے 
it is˺ the Day the Trumpet will be blown, and you will ˹all˺ come forth in crowds
۔

وَفُتِحَتِ ٱلسَّمَآءُ فَكَانَتْ أَبْوَٰبًا (19)

وَفُتِحَتِ : اور کھول دیا جائے گا •
ٱلسَّمَآءُ: آسمان •
فَكَانَتْ : تو ہوجائے گا •
أَبْوَٰبًا: دروازے ،دروازے •

ترجمہ: اور آسمان کھولا جائے گا تو (اس میں) دروازے
ہو جائیں گے
The sky will be ˹split˺ open, becoming ˹many˺ gates,

(20) وَسُيِّرَتِ ٱلْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًا

وَسُيِّرَتِ : اور چلا دیئے جائیں گے •
ٱلْجِبَالُ: پہاڑ •
فَكَانَتْ : تو ہوں گے وہ •
سَرَابًا۔ سراب •

ترجمہ : اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ ریت ہو کر رہ جائیں گے
and the mountains will be blown away, becoming ˹like˺ a mirage.
(The clear Quran)
سورۂ نبا کی اردو تفسیر | Surah An Naba Tafsir in Urdu
سورۂ نبا کی اردو تفسیر

سورۂ النبا تفسیر آیت 11 تا 20

وَجَعَلْنَا ٱلنَّهَارَ مَعَاشًا اور دن کو کمانے کا ذریعہ بنایا رات سکون کا باعث بن جاتی ہے“ اور برخلاف رات کے دن کو ہم نے روشن، اجالے والا اور بغیر اندھیرے کے بنایا ہے،

تاکہ تم اپنا کام دھندا اس میں کر سکو جا آ سکو۔ بیوپار، تجارت، لین دین کر سکو اور اپنی روزیاں حاصل کر سکو، ہم نے جہاں تمہیں رہنے سہنے کو زمین بنا دی وہاں ہم نے

وَبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًا تمہارے اوپر سات آسمان بنائے جو بڑے لمبے چوڑے پختہ عمدہ اور زینت والے ہیں تم دیکھتے ہو کہ اس میں ہیروں کی طرح چمکتے ہوئے ستارے لگ رہے ہیں بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ایک جگہ قائم ہیں۔ جیسا کہ آپ Surah An Naba Tafsir in Urdu کی آیات میں ان کی تفصیل دیکھ رہے ہیں۔

سورج کی روشنی اور بارش کی نعمت

وَجَعَلْنَا سِرَاجًا وَهَّاجًا : چمکتا ہوا چراغ بنایا آسمان میں پھر فرمایا ” ہم نے سورج کو چمکتا چراغ بنایا جو تمام جہان کو روشن کر دیتا ہے ہر چیز کو جگمگا دیتا ہے اور دنیا کو منور کر دیتا ہے

اللّٰہ تعالیٰ کے ہم پر یہ تمام احسانات Surah An Naba Tafsir in Urdu کا ایک بنیادی معلوماتی حصہ ہیں…”

وَأَنزَلْنَا مِنَ ٱلْمُعْصِرَٰتِ مَآءً ثَجَّاجًا : اور دیکھو کہ ہم نے پانی کی بھری بدلیوں سے بکثرت پانی برسایا “۔ بارش کا نظام خود اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک بڑی دلیل ہے

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”ہوائیں چلتی ہیں، ادھر سے ادھر بادلوں کو لے جاتی ہیں اور پھر ان بادلوں سے خوب بارش برستی ہے اور زمین کو سیراب کرتی ہے“ اور بھی بہت سے مفسرین نے یہی فرمایا ہے۔

بارانِ رحمت اور نباتات و باغات کی تخلیق

لِّنُخْرِجَ بِهِۦ حَبًّا وَنَبَاتًا :تاکہ اسی کے ذریعے دانے اور ترکاریاں بھی اگائیں۔ پھر ہم اس پانی سے جو پاک، صاف، بابرکت، نفع بخش ہے، اناج اور دانے پیدا کرتے ہیں جو انسان حیوان سب کے کھانے میں آتے ہیں اور سبزیاں اگاتے ہیں جو تروتازہ کھائی جاتی ہیں۔

اور اناج کھلیان میں رکھا جاتا ہے پھر کھایا جاتا ہے اور باغات اس پانی سے پھلتے پھولتے ہیں اور قسم قسم کے ذائقوں، رنگوں، خوشبوؤں والے میوے اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں گو کہ زمین کے ایک ہی ٹکڑے پر وہ ملے جلے ہیں

وَجَنَّـٰتٍ أَلْفَافًا : لپٹے ہوئے باغات پیدا کئے ۔ أَلْفَافًا» ‏کے معنی جمع کے ہیں ” گھنے لپٹے ہوئے” زمین میں مختلف ٹکڑے ہیں جو آپس میں ملے جلے ہیں اور انگور کے درخت کھیتیاں ہیں ۔

کھجور کے درخت، بعض شاخ دار، بعض زیادہ شاخوں کے بغیر، اور وہ سب ایک ہی پانی سے سیراب کئے جاتے ہیں اور ہم ایک سے ایک کو بڑھ کر میوہ میں زیادہ کرتے ہیں یقیناً عقلمندوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں “۔

قیامت اور صور پھونکے جانے کا بیان

إِنَّ يَوْمَ ٱلْفَصْلِ كَانَ مِيقَـٰتًا : اب اللّٰہ نے دعویٰ کیا ہے، اللّٰہ فرماتا ہے ان دلائل سے پتہ چلتا ہے کہ فیصلے کا ایک دن مقرر ہے، یعنی ایک دن آۓ گا جب اللّٰہ ان نعمتوں کا حساب کرے گا ۔ دلائل یہ دیئے کہ زمین پیدا کی، آسمان سے بارشیں برسائی۔

اور دعویٰ ہے کہ فیصلے کا دن متعین ہے ۔ قیامت کے بارے میں غیر مسلم جو کہتے ہیں کہ قیامت نہیں آئے گی یہ صرف باتیں ہیں اور نبی کا دعویٰ ایسے ہے۔

اور یہاں سے Surah An Naba Tafsir in Urdu کا رخ قیامت کے احوال کی طرف مڑتا ہے…”قرآن کریم کا یہ انداز ہے سمجھانے کا ۔

اللّٰہ فرماتا ہے جتنا ایک باپ اپنی اولاد پر احسان کرتا ہے ہم نے اس سے بڑھ کر کئے ہیں ، تو اب حساب کتاب کا دن آنے والا ہے، میں پوچھوں گا ایک دن ۔

یعنی قیامت کا دن ہمارے علم میں مقرر دن ہے، نہ وہ آگے ہو، نہ پیچھے ٹھیک وقت پر آ جائے گا۔ کب آئے گا اس کا صحیح علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے۔ ‏ «‏وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ» [11-ھود:104] ‏ ” نہیں ڈھیل دیتے ہم انہیں لیکن وقت مقرر کے لیے

يَوْمَ يُنفَخُ فِى ٱلصُّورِ فَتَأْتُونَ أَفْوَاجًا : یہ وہ دن ہے جب صور میں پھونکا جائے گا اور تم فوج در فوج قبروں سے نکل کر ہمارے سامنے آ جاؤ گے،

اس دن صور میں پھونک ماری جائے گی اور لوگ جماعتیں جماعتیں بن کر آئیں گے، ہر ایک امت اپنے اپنے نبی کے ساتھ الگ الگ ہو گی۔ جیسے فرمایا «‏يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِهِمْ» [17-الإسراء:71] ‏ ” جس دن ہم تمام لوگوں کو ان کے اماموں سمیت بلائیں گے “۔

پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی برسائے گا اور جس طرح درخت اگتے ہیں لوگ زمین سے اگیں گے، انسان کا تمام بدن گل سڑ جاتا ہے لیکن ایک ہڈی اور وہ کمر کی ریڑھ کی ہڈی ہے اسی سے قیامت کے دن مخلوق مرکب کی جائے گی۔‏“

قیامت کے دن آسمان اور پہاڑوں کی حالت

وَفُتِحَتِ ٱلسَّمَآءُ فَكَانَتْ أَبْوَٰبًا : آسمان کے دروازے کھول دیئے جائیں گے” فَكَانَتْ ” وہ دروازے در دروازے ہو جائے گا ، یعنی آسمان کھل جائے گا، جتنے دروازے ہونگے سب کھل جائیں گے ۔ تاکہ فرشتوں کا نزول ہو اور وہ حساب کتاب کے لیے نیچے آئیں۔

‏ آسمان کھول دیئے جائیں گے اور اس میں فرشتوں کے اترنے کے راستے اور دورازے بن جائیں گے، پہاڑ چلائے جائیں گے اور بالکل ریت کے ذرے بن جائیں گے۔ [صحیح بخاری:4935]

وَسُيِّرَتِ ٱلْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًا : پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہٹا دیا جائے گا، یعنی جو ابھی نظامِ عالم ہے یہ ہمیشہ کے لئے نہیں ہے ابھی یہ کائنات وقتی ہے قیامت کے دن یہ سب تباہ ہو جائے گا، چٹیل میدان بن جائیں گے ۔

جیسے قرآن کریم میں ایک اور جگہ ہے ، [27-النمل:88] ‏ یعنی ” تم پہاڑوں کو دیکھ رہے ہو، جان رہے ہو وہ پختہ مضبوط اور جامد ہیں لیکن یہ بادلوں کی طرح چلنے پھرنے لگیں گے “۔

ایک اور جگہ قرآن کریم میں ہے‏ ” پہاڑ مثل دھنی ہوئی اون کے ہو جائیں گے “ [101-القارعة:5] ‏ ۔ یہاں فرمایا ” پہاڑ سراب ہو جائیں گے “ یعنی دیکھنے والا کہتا ہے کہ وہ کچھ ہے حالانکہ دراصل کچھ نہیں۔ آخر میں بالکل برباد ہو جائیں گے، نام و نشان تک نہ رہے گا۔

‏ لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تو کہہ انہیں میرا رب پراگندہ کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان میں رہ جائے گی جس میں نہ کوئی موڑ ہو گا نہ ٹیلا۔ [20-طه:107-105] ‏ ”

النبا لفظ بہ لفظ معنی، بامحاورہ ترجمہ آیات 21 تا 30

إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا (21)

إِنَّ : بیشک •

جَهَنَّمَ : جہنم •

كَانَتْ : ہے •

مِرْصَادًا : ایک گھات •

ترجمہ: بیشک جہنم گھات میں ہے 
Indeed, Hell is lying in ambush

لِّلطَّـٰغِينَ مَـَٔابًا (22)

لِّلطَّـٰغِينَ : سرکشوں کے لئے •

مَـَٔابًا : ٹھکانہ ہے •

ترجمہ: (یعنی) سرکشوں کا وہی ٹھکانہ ہے
as a home for the transgressors

لَّـٰبِثِينَ فِيهَآ أَحْقَابًا (23)

لَّـٰبِثِينَ : ہمیشہ رہنے والی •

فِيهَآ : اس میں •

أَحْقَابًا : مدتوں •

ترجمہ : اس میں وہ مدتوں پڑے رہیں گے 
where they will remain for endless ages ,

لَّا يَذُوقُونَ فِيهَا بَرْدًا وَلَا شَرَابًا (24)

لَّا : نہ •
يَذُوقُونَ : وہ چکھیں گے •
فِيهَا : اس میں •
بَرْدًا : کوئی ٹھنڈک •
وَلَا : اور نہ •
شَرَابًا : پینے کی چیز

ترجمہ : وہاں نہ ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ (کچھ) پینا ( نصیب ہوگا).
There they will not taste any coolness or drink,

إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا (25)

إِلَّا : مگر •
حَمِيمًا : کھولتا •
وَغَسَّاقًا : اور بہتی پیپ •

ترجمہ : مگر گرم پانی اور بہتی پیپ 
except boiling water and' oozing' pus,

جَزَآءً وِفَاقًا (26)

جَزَآءً : بدلہ ہے •
وِفَاقًا : پورا پورا •

ترجمہ : (یہ) بدلہ ہے پورا پورا 
a fitting reward ,

إِنَّهُمْ كَانُوا۟ لَا يَرْجُونَ حِسَابًا (27)

إِنَّهُمْ : بیشک وہ •
كَانُوا۟ : وہ تھے •
لَا : نہ۔ •
يَرْجُونَ : امید رکھتے تھے •
حِسَابًا : حساب کی •

ترجمہ : یہ لوگ حساب (آخرت) کی امید ہی نہیں رکھتے تھے۔
For they never expected any reckoning,

وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا كِذَّابًا (28 )

وَكَذَّبُوا۟ : اور انہوں نے جھٹلایا •

بِـَٔايَـٰتِنَا : ہماری آیات کو •

كِذَّابًا : جھٹلانا •

ترجمہ : اور ہماری آیتوں کو جھوٹ سمجھ کر جھٹلاتے رہتے تھے۔
and totally rejected our signs,

وَكُلَّ شَىْءٍ أَحْصَيْنَـٰهُ كِتَـٰبًا (29)

وَكُلَّ : اور ہر •
شَىْءٍ : چیز کو •
أَحْصَيْنَـٰهُ : شمار کر رکھا ہے ہم نے اس کو •
كِتَـٰبًا : کتاب میں •

ترجمہ : اور ہم نے ہر چیز کو لکھ کر ضبط کر رکھا ہے۔
And we have everything recorded precisely,

فَذُوقُوا۟ فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا (30)

فَذُوقُوا۟ : پس چکھو •

فَلَن : پس ہرگز نہ •

نَّزِيدَكُمْ : ہم زیادہ دیں گے تم کو •

إِلَّا : مگر •

عَذَابًا : عذاب •

ترجمہ : سو (اب) مزہ چکھو، ہم تم پر عذاب ہی بڑھاتے جائیں گے۔ 
So the deniers will be told " Taste " the punishment , for all you will get from Us is more torment,
Surah an Naba verse by verse Tafsir
کائنات کا نظام اور اللہ کی نعمتیں | Surah An Naba Tafsir

سورۂ النبا اردو تفسیر آیات 21 تا 30

إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا : اللّٰہ فرماتا ہے، تم تو اس اختلاف میں ہو کہ پتہ نہیں قیامت آۓ گی یا نہیں جبکہ جہنم تاک لگا کر بیٹھی ہے۔ ان لوگوں کے لئے جو اللّٰہ تعالیٰ کی نافرمانی کر رہے ہیں، جو شرک کر رہےہیں۔

جو گناہِ کبیرہ کر رہے ہیں ان تمام لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہے، جہنم تاک میں ہے کس کی تاک میں ہے یہ آگے بتایا گیا ہے ، آئیے اب Surah An Naba Tafsir in Urdu کے اگلے حصے میں جہنم کے احوال کا مطالعہ کرتے ہیں۔

جہنم کا بیان اور سرکشوں کا ٹھکانہ

لِّلطَّـٰغِينَ مَـَٔابًا :” سرکش، نافرمان، مخالفین رسول کی تاک میں جہنم لگی ہوئی ہے ان کے لوٹنے اور رہنے سہنے کی جگہ ہے “۔ اس کے معنی حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بھی کیے ہیں کہ ”کوئی شخص جنت میں بھی نہیں جا سکتا، جب تک جہنم پر سے نہ گزرے۔

اگر اعمال ٹھیک ہیں تو نجات پا لی اور اگر اعمال بد ہیں تو روک لیا گیا اور جہنم میں جھونک دیا گیا۔‏“ نافرمانوں کے لیے تیار کردہ اس عذاب کی تفصیل ہمیں Surah An Naba Tafsir in Urdu کی ان آیات سے ملتی ہے۔

لَّـٰبِثِينَ فِيهَآ أَحْقَابًا : وہ اس میں طویل عرصے تک رہیں گے، حقب طویل عرصے کو کہتے ہیں اس کی کوئی خاص مقدار ظاہر نہیں “احقابا حقب کی جمع ہے معنی طویل عرصہ” ۔

ایک لمبے زمانے کو «حُقْبٍ» کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں «حُقْبٍ» اسی سال کا ہوتا ہے سال بارہ ماہ کا۔ مہینہ تیس دن اور ہر دن ایک ہزار سال کا، بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے یہ مروی ہے۔ بعض کہتے ہیں ستر سال کا «حُقْبٍ» ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے چالیس سال کا ہے، جس میں ہر دن ایک ہزار سال کا۔

دوزخیوں کی خوراک: کھولتا ہوا پانی اور پیپ

لَّا يَذُوقُونَ فِيهَا بَرْدًا وَلَا شَرَابًا :اور نہیں چکھیں گے اس جہنم میں ” بردا ” کوئی ٹھنڈی چیز ، “ وَلاَ شرابا” اور نہ کوئی پینے کی چیز ۔

إِلَّا حَمِيمًا ” مگر کھولتا ہوا پانی” وَغَسَّاقًا ” اور پیپ ” حَمِيمً» اس سخت گرم کو کہتے ہیں جس کے بعد حرارت کا کوئی درجہ نہ ہو، اور «غَسَّاقً» کہتے ہیں جہنمی لوگوں کے لہو، پیپ، پسینہ، آنسو اور زخموں سے بہے ہوئے خون، پیپ وغیرہ کو،

اس گرم چیز کے مقابلہ میں یہ اس قدر سرد ہو گی جو بجائے خود عذاب ہے اور بے حد بدبودار ہے۔ ان دوزخیوں کو نہ تو کلیجے کی ٹھنڈک ہو گی نہ کوئی اچھا پانی ملے گا، ہاں ٹھنڈک کے بدلے گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا اور کھانے پینے کی چیز بہتی ہوئی پیپ ملے گی۔

حَمِيمًا وَغَسَّاقًا» [78-النبإ:25] ‏ کے ساتھ یعنی ” وہ ایک ہی عذاب گرم پانی اور بہتی پیپ کا مدتوں رہے گا “، پھر دوسری قسم کا عذاب شروع ہو گا لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا خاتمہ ہی نہیں۔

جَزَآءً وِفَاقًا : یہ بدلہ ہوگا پورا پورا، جیسے تمہارے اعمال تھے اللّٰہ نے ویسے تمہیں بدلہ دے دیا، پھر فرمایا ” یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے۔

منکرینِ قیامت کا انجام اور اعمال کا حساب

ان کی بد اعمالیاں بھی تو دیکھو کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حساب کا کوئی دن آنے ہی کا نہیں، ہم نے جو جو دلیلیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی تھیں یہ ان سب کو جھٹلاتے تھے۔

اللّٰہ فرماتا ہے ان لوگوں کے ساتھ زیادتی نہیں ہو رہی بلکہ ” إِنَّهُمْ كَانُوا۟ “یہ وہ لوگ تھے کہ “لَا يَرْجُونَ حِسَابًا ” ان کو حساب کی امیدیں نہیں تھیں، یہ لوگ اللّٰہ کو پہچاننے کے لئے تیار نہیں تھے ۔

ان میں بہت ایسے تھے جو اللّٰہ کے وجود کے ہی منکر تھے اتنے کائنات کی قدرت کے دلائل انہوں نے دیکھے مگر وہ نہیں مانتے تھے کہ ان کو کوئی پیدا کرنے والا اللّٰہ ہے

وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا كِذَّابًا : اور ہماری نشانیوں کا انکار کرتے تھے بھر پور طریقے سے ” كِذَّابًا ” کا معنی خوب جھٹلاتے تھے، اس میں اللّٰہ کی آیات سے قرآن مراد ہو سکتا ہے کہ قرآن کا انکار کرتے تھے ۔

یا جو اللّٰہ کی قدرت کی نشانیاں اس کائنات میں پھیلی ہوئی ہیں، جن سے اللّٰہ تعالیٰ کے احسانات ثابت ہوتے ہیں ان تمام نشانیوں کا زبان یا عمل سے انکار کرتے تھے

ہر عمل کا لکھ کر محفوظ کیا جانا

وَكُلَّ شَىْءٍ أَحْصَيْنَـٰهُ كِتَـٰبًا : اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ اس بحث میں لگ گئے تھے کہ قیامت قائم ہوگی یا نہیں حالانکہ ہم نے ہر چیز کو لکھ کر محفوظ کر لیا ہے ۔

ہم نے اپنے بندوں کے تمام اعمال و افعال کو گن رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھے ہوئے ہیں اور سب کا بدلہ بھی ہمارے پاس تیار ہے “۔ اللہ کے اس جامع نظامِ حساب کی حقیقت Surah An Naba Tafsir in Urdu کے اس اہم پیراگراف سے واضح ہوتی ہے ۔

فَذُوقُوا۟ فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا : ان اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ ” اب ان عذابوں کا مزہ چکھو، ایسے ہی اور اس سے بھی بدترین عذاب تمہیں بکثرت ہوتے رہیں گے “۔

ان کے عذاب میں اضافہ ہی ہوگا کمی نہیں ہوگی ۔ جہنم والے کہیں گے یا اللّٰہ ایک دن عذاب کم کر دے ایک دن کی رخصت مل جائے، ایک دن وقفہ ہو جائے ہم سانس لے لیں لیکن کہا جائے گا،

عذاب کم نہیں ہوگا بلکہ یہ ہمیشہ بڑھتا ہی جائے گا،” جہنم میں موت نہیں ہے جب جہنم کی آگ ہلکی پڑنے لگے گی تو ہم اس کو اور تیز کر دیں گے ہلکا نہیں ہونے دیں گے ۔(القرآن)

سورۂ النبا لفظ بہ لفظ معنی آیات 31 تا 40

إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا (31)

إِنَّ : بیشک •

لِلْمُتَّقِينَ : متقی لوگوں کے لئے •

مَفَازًا : کامیابی ہے •

ترجمہ : بے شک پرہیزگاروں کے لیے کامیابی ہے۔ 
Indeed, the righteous will have salvation ,

حَدَآئِقَ وَأَعْنَـٰبًا (32)

حَدَآئِقَ : باغات ہیں •

وَأَعْنَـٰبًا : اور انگور ہیں •

ترجمہ : (یعنی) باغات اور انگور 
Gardens, vineyards ,

وَكَوَاعِبَ أَتْرَابًا (33)

وَكَوَاعِبَ : اور نو خیز لڑکیاں •

أَتْرَابًا : ہم عمر •

ترجمہ : اور ہم عمر نوجوان عورتیں۔
and full _ bosomed maidens of equal age,

وَكَأْسًا دِهَاقًا (34)

وَكَأْسًا : اور جام •

دِهَاقًا : چھلکتے ہوئے/بھرے ہوئے •

ترجمہ: اور شراب کے چھلکتے ہوئے گلاس۔
and full cups of pure wine

لَّا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا كِذَّٰبًا (35)

لَّا : نہ •
يَسْمَعُونَ : وہ سنیں گے •
فِيهَا : اس میں •
لَغْوًا : کوئی لغو بات •
وَلَا : اور نہ •
كِذَّٰبًا : کوئی جھوٹی بات •

ترجمہ : وہاں نہ بیہودہ بات سنیں گے نہ جھوٹ (خرافات)
never to hear any idle talk or lying therein,

جَزَآءً مّـِن رَّبّـِكَ عَطَآءً حِسَابًا (36)

جَزَآءً : بدلہ ہے •
مّـِن : سے •
رَّبّـِكَ : تیرے رب کی طرف سے •
عَطَآءً : بدلہ / بخشش •
حِسَابًا : بے حساب/ کفایت کرنے والی •

ترجمہ : یہ تمہارے پروردگار کی طرف ںسے صلہ ہے انعام کثیر۔
a 'fitting' reward as a generous gift from your Lord,

رَّبٌِ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ٱلرَّحْمَـٰنِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِنْهُ خِطَابًا (37)

رَّبٌِ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ : جو رب ہے آسمانوں کا •
وَٱلْأَرْضِ : اور زمین کا •
وَمَا : اور جو •
بَيْنَهُمَا : ان دونوں کے درمیان ہے •
ٱلرَّحْمَـٰنِ ۖ: رحمٰن •
لَا يَمْلِكُونَ: نہ مالک ہونگے •
مِنْهُ خِطَابًا : اس سے بات کرنے کے •

ترجمہ : وہ جو آسمانوں اور زمین اور جو ان دونوں میں ہے سب کا مالک ہے بڑا مہربان کسی کو اس سے بات کرنے کا یارا نہیں ہوگا۔
the Lord of the heavens and the earth and everything in between, the Most Compassionate, No one will dare speak to Him,

يَوْمَ يَقُومُ ٱلرُّوحُ وَٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ صَفًّا ۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ ٱلرَّحْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًا (38)

يَوْمَ :جس دن •

يَقُومُ : قیام کریں گے •

ٱلرُّوحُ : روح الامین •

وَٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ : اور فرشتے •

صَفًّا ۖ : صف در صف •

لَّا يَتَكَلَّمُونَ : نہ کلام کر سکیں گے/ نہ بات کر سکیں گے •

إِلَّا : مگر •

مَنْ : جس کو •

أَذِنَ : اجازت دے •

لَهُ : اس کے لئے •

ٱلرَّحْمَـٰنُ : رحمٰن •

وَقَالَ : اور وہ کہے •

صَوَابًا : درست بات •

ترجمہ : جس دن روح الامین اور فرشتے صف باندھ کر کھڑے ہونگے تو کوئی بول نہ سکے گا مگر جس کو (خداۓ رحمٰن) اجازت بخشے اور اس نے بات بھی درست کہی ہو۔
on the Day the ' holy spirit ' and the angels will stand in ranks , None will talk except those granted permission by the Most Compassionate and whose words are true,

ذَٰلِكَ ٱلْيَوْمُ ٱلْحَقُّ ۖ فَمَن شَآءَ ٱتَّخَذَ إِلَىٰ رَبٌِهِۦ مَـَٔابًا (39)

ذَٰلِكَ : یہ ہے •

ٱلْيَوْمُ : دن •

ٱلْحَقُّ ۖ: برحق •

فَمَن : پس جو کوئی •

شَآءَ : چاہے •

ٱتَّخَذَ : بنالے •

إِلَىٰ : طرف •

رَبٌِهِۦ : اپنے رب کی •

مَـَٔابًا : ٹھکانہ •

یہ دن برحق ہے، پس جو شخص چاہے اپنے پروردگار کے پاس ٹھکانہ بنا لے۔
That day is the ' Ultimate' truth. So let whoever wills take the path leading back to their Lord,

إِنَّآ أَنذَرْنَـٰكُمْ عَذَابًا قَرِيبًا يَوْمَ يَنظُرُ ٱلْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ وَيَقُولُ ٱلْكَافِرُ يَـٰلَيْتَنِى كُنتُ تُرَٰبًۢا (40)

إِنَّآ : بیشک ہم نے •

أَنذَرْنَـٰكُمْ : خبردار کیا ہم نے تم کو •

عَذَابًا : عذاب سے •

قَرِيبًا : قریبی •

يَوْمَ : جس دن •

يَنظُرُ : دیکھے گا •

ٱلْمَرْءُ : انسان •

مَا : جو •

قَدَّمَتْ : آگے بھیجا •

يَدَاهُ : اس کے دونوں ہاتھوں نے •

وَيَقُولُ : اور کہے گا •

ٱلْكَافِرُ : کافر •

يَـٰلَيْتَنِى : اے کاش کہ میں •

كُنتُ : میں ہوتا •

تُرَٰبًۢا : مٹی/ خاک •

ترجمہ : ہم نے تم کو عذاب سے جو عنقریب آنے والا ہے
آگاہ کر دیا ہے جس دن ہر شخص ان (اعمال) کو جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے دیکھ لے گا اور کافر کہے گا کہ اے کاش میں مٹی ہوتا۔
Indeed, We have warned you of an imminent punishment—the Day every person will see ˹the consequences of˺ what their hands have done, and the disbelievers will cry, “I wish I were dust.”
Surah an Naba Urdu translation
متقیوں کا انجام اور کافر کی حسرت | سورۂ نبا فائنل پارٹ

النبا تفسیر آیات 31 تا 40

إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا : اللّٰہ فرماتا ہے جو پرہیزگار لوگ تھے جو گناہوں سے بچتے تھے مفازا ان کے لئے بڑی کامیابی ہے مفازا فوذ کی جمع ہے فوذ عام کامیابی کو نہیں کہتے مفاذا بہت بڑی کامیابی کو کہتے ہیں۔

جنت کی یہ تمام لازوال نعمتیں اور پاکیزہ ماحول کسی سفارش کا نہیں، بلکہ ایمان والوں کے لیے ان کے رب کا سچا وعدہ اور عظیم صلہ ہے

متقیوں کی کامیابی اور جنت کی نعمتیں

بعض حضرات کا کہنا ہے فلاح اور مفازا ایسے الفاظ ہیں جو عربی کے علاوہ کسی اور زبان میں نہیں آتے، ان کا معنی ہے اصل کامیابی، بے شک پرہیز گار لوگوں کے لئے بڑی کامیابی ہے ان کو کیا نعمتیں ملیں گی؟

حَدَآئِقَ وَأَعْنَـٰبًا : باغیچے ہونگے، و اعنابا اور انگور ہونگے نیک لوگوں کے لئے اللّٰہ کے ہاں جو نعمتیں و رحمتیں ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ کامیاب اور نصیب دار ہیں کہ جہنم سے نجات پائی اور جنت میں پہنچ گئے،

وَكَوَاعِبَ أَتْرَابًا : انہیں نوجوان اور کنواری حوریں بھی ملیں گی، اور ہم عمر ہونگی، جنت کی عورتوں کی عمر ایک جتنی ہوگی اس طرح آپس میں کوئی حسد بھی نہیں ہوگا ۔

وَكَأْسًا دِهَاقًا : انہیں شرابِ طہور کے چھلکتے ہوئے پاک صاف بھرپور جام پر جام ملیں گے، جس میں نشہ نہ ہوگا،

لَّا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا كِذَّٰبًا : کہ بیہودہ گوئی اور لغو باتیں منہ سے نکلیں اور کان میں پڑیں ۔ وہاں کوئی خرافات اور لغویات نہیں ہونگی بلکہ صرف اچھی باتیں ہونگی ۔

جَزَآءً مّـِن رَّبّـِكَ عَطَآءً حِسَابًا : یہ جو کچھ بدلے ان پارسا لوگوں کو ملے ہیں یہ ان کے نیک اعمال کا نتیجہ ہے، جو اللّٰہ کے فضل و کرم سے اور اس کے احسان وانعام کی بنا پر ملے ہیں جو بکثرت اور بھرپور ہیں۔

اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے نیک بندوں کو ان کے اعمال سے بڑھ کر اور بھرپور انعام عطا فرمائے گا۔

ربِ رحمن کی عدالت اور کافر کی آخری حسرت

رَّبِّ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ٱلرَّحْمَـٰنِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِنْهُ خِطَابًا : اللّٰہ تعالیٰ اپنی عظمت و جلال کی خبر دے رہا ہے، کہ آسمان اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام مخلوق کا پالنے والا ہے وہ رحمٰن ہے جس کے رحم نے تمام چیزوں کو گھیر لیا ہے

يَوْمَ يَقُومُ ٱلرُّوحُ وَٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ صَفًّا ۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ ٱلرَّحْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًا : جب تک اس کی اجازت نہ ہو کوئی اس کے سامنے لب نہیں ہلا سکتا۔

قیامت کے دن اللہ کے جلال کا یہ عالم ہوگا کہ روح الامین (حضرت جبرائیلؑ) اور تمام فرشتے باادب صفیں باندھے کھڑے ہوں گے اور بغیر اجازت کوئی بات نہ کر سکے گا۔”

ذَٰلِكَ ٱلْيَوْمُ ٱلْحَقُّ ۖ فَمَن شَآءَ ٱتَّخَذَ إِلَىٰ رَبّـِهِۦ مَـَٔابًا :پھر فرمایا یہ دن حق ہے یقیناً آنے والا ہے، جو چاہے اپنے رب کے پاس اپنے لوٹنے کی جگہ اور وہ راستہ بنا لے جس پر چل کر وہ سیدھا اس کے پاس جا پہنچے۔

قیامت کا دن اٹل اور برحق ہے، اس لیے عقلمند وہی ہے جو آج ہی اپنے رب کی طرف لوٹنے کا سیدھا راستہ اختیار کر لے۔

إِنَّآ أَنذَرْنَـٰكُمْ عَذَابًا قَرِيبًا يَوْمَ يَنظُرُ ٱلْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ وَيَقُولُ ٱلْكَافِرُ يَـٰلَيْتَنِى كُنتُ تُرَٰبًۢا :ہر انسان کو اس کے اگلے پچھلے اعمال سے متنبہ کیا جائے گا، اس دن کافر آرزو کرے گا کہ کاش وہ مٹی ہوتا، پیدا ہی نہ کیا جاتا۔

آخر میں بالکل برباد ہو جائیں گے اور کافر مٹی ہونے کی حسرت کرے گا۔ یہاں پر Surah An Naba Tafsir in Urdu کا یہ تفسیری مضمون اپنے اختتام کو پہنچتا ہے۔

اس ہولناک دن انسان اپنے آگے بھیجے ہوئے اعمال کو خود دیکھ لے گا اور کافر شدتِ خوف سے یہ حسرت کرے گا کہ کاش وہ دنیا میں پیدا ہی نہ ہوا ہوتا یا مٹی بن جاتا۔

الحمدللہ سورۂ النبـا کی اردو تفسیر “Surah an Naba Tafsir in Urdu، لفظ بہ لفظ معنی اور بامحاورہ ترجمہ کے ساتھ یہاں مکمل ہوئی ۔ (حوالے تفسیر ابنِ کثیر، ڈاکٹر محمد اسرار احمد مرحوم، مفتی طارق مسعود صاحب ، شیخ شجاع الدین صاحب،مذہبی اسکالر فرحت ہاشمی)

آسان لفظوں میں مکمل Surah An Naba Tafsir in Urdu پڑھیے۔ اس بلاگ میں ہم نے سورہ نبا کی تفسیر، قیامت کے احوال اور متقیوں کے انعامات کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔”

(Conclusion):خلاصہ

مجموعی طور پر، یہ سورت ہمیں دنیا کی عارضی زندگی کی حقیقت اور آخرت کی ابدی کامیابی کا شعور عطا کرتی ہے۔ اس تفصیلی Surah An Naba Tafsir in Urdu کے ذریعے ہم نے نہ صرف کائنات کے نظام میں چھپی اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں اور نشانیوں کو سمجھا۔

بلکہ قیامت کے دن کی ہولناکیوں، دوزخیوں کے عبرت ناک انجام اور متقیوں کے لیے جنت کے لازوال انعامات کا بھی گہرا مطالعہ کیا۔ Surah an Naba Tafsir in Urdu میں یہ آیات ہر انسان کو دعوتِ فکر دیتی ہیں کہ وہ دنیا کے دھوکے سے نکل کر اپنے اعمال کی اصلاح کرے، کیونکہ اللہ کا نظامِ حساب انتہائی جامع اور برحق ہے۔

امید ہے کہ Surah An Naba Tafsir in Urdu کی یہ علمی پیشکش آپ کے ایمان کو پختہ کرنے اور آخرت کی تیاری کا جذبہ بیدار کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن پاک کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Leave a Comment