surah An Nasr Urdu tafsir
سورۂ نصر کی خصوصیت
(حصہ اول)
یہ وہ سورت ہے جس نمازوں میں بکثرت پڑھی جاتی ہے ، اور تقریباً ہر مسلمان کو یاد ہوتی ہے ، اس سورت کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ قرآن کریم کی سب سے آخری سورت ہے جو مکمل نازل ہوئی اس کے بعد کوئی اور سورت مکمل نازل نہیں ہوئی ،
بشارت اور سبق
اس سورت کے اندر بڑی عظیم بشارت بھی ہے اور بڑا سبق بھی ، اللّٰہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ جب اللّٰہ تعالیٰ کی مدد أ جاۓ اور فتح حاصل ہو جائے ، اور آپ ﷺ دیکھیں کہ لوگ اللّٰہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں
تو پھر اپنے پروردگار کی تسبیح اور حمد کیجئے اور اسی سے استغفار کیجئے یقیناً اللّٰہ تعالیٰ بہت توبہ قبول کرنے والا اور بڑا معاف کرنے والا ہے ، یہ آخری سورت ہے جو نبی کریم ﷺپر نازل ہوئی اس سورت کے نزول کے بعد آپ ﷺدو سال دنیا میں تشریف فرما رہے

سورۂ نصر میں پیشن گوئی
اس سورت میں پیشن گوئی فرمائی گئی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی مدد آنے والی ہے ، اور فتح حاصل ہونے والی ہے ، فتح سے اشارہ مکہ مکرمہ کی فتح ہونے کی طرف ہے ، وہ مکہ مکرمہ جہاں مسلمانوں پر زمین تنگ کی جا رہی تھی ،
ظلم و تشدد کا بازار گرم تھا ، کوئی کلمہ توحید پڑھتا تو اس کو تپتی ہوئی ریت پر لٹایا جاتا ، اس کے سینے پر سیلیں رکھی جاتی ، وہ مکہ مکرمہ اب آپ ﷺکے ہاتھوں فتح ہونے والا ہے اور آپ ﷺ لوگوں کو دیکھیں گے کہ فوج در فوج اللّٰہ تعالیٰ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں ،
پیشن گوئی مکمل اور فتح مکہ
چنانچہ ایسے ہی ہوا اللّٰہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ آپ ﷺ کے ہاتھوں ایسے فتح فرمایا کہ خون بھی نہیں بہا اور مکہ مکرمہ فتح بھی ہوگیا ، ، اور اس کے بعد سارے جزیرہ عرب کے قبیلے فوج در فوج آ کر نبی کریم ﷺ کے دین میں داخل ہوئے
فتح مکہ کے بعد پہلی اذان
جب مکہ مکرمہ فتح ہوگیا اللّٰہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو غلبہ عطا فرمایا ، تو آپ ﷺ نے بیت اللّٰہ میں داخل ہونے کے بعد یہ کیا کہ حضرت بلال رضی اللّٰہ عنہ کو بیت اللّٰہ کی چھت پر کھڑا کر کے اذان دلوائی ، اور پورے مکہ میں حضرت بلال رضی اللّٰہ عنہ کی اذان گونجی ،
سورۂ نصر،نبی کریم ﷺ کا ظرف
- آپ ﷺ نے انتقام لینے کی بجائے اور لوگوں کا خون بہانے کی بجائے عام معافی کا اعلان کیا ،
- اور فرمایا جو مسجد الحرام میں داخل ہو جائے گا اسے امن ہے ،
- جو اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے اسے امن ہے
- جو اپنے ہتھیار پھینک دے اسے امن ہے
- جو ابو سفیان کے گھر داخل ہو جائے اسے امن ہے
وہ بڑے بڑے سردارانِ مکہ جنھوں نے نبی کریم ﷺ کے قتل کرنے اور گرفتار کرنے کی سازشیں کی تھیں ، جنھوں نے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیا تھا ، وہ سب سامنے آئے تو فرمایا تم سب آزاد ہو ، تمھارے سے آج کوئی انتقام نہیں لیا جائے گا
یہ نبی کریم ﷺ کا ظرف تھا کہ تیرہ سال تک جن لوگوں نے ظلم و ستم کی چکی میں پیسا ، جب ان کے اوپر اقتدار حاصل ہوا تو نبی کریم ﷺ نے عام معافی کا اعلان فرما دیا ، کوئی اور ہوتا تو مکہ میں خون کی ندیاں بہہ جاتی
نبی کریم ﷺ کا بے مثال حسنِ سلوک
صحابہ کرام فرماتے ہیں ، جب نبی کریم ﷺ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے آپ ﷺ۔ اپنی اونٹنی پر سوار تھے ، اور گردن جھکی ہوئی تھی ، آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ، اور زبان مبارک پر یہ آیات تھیں
إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًۭا مُّبِينًۭا ١
(اے محمدﷺ)
ہم نے تم کو فتح دی۔ فتح بھی صریح وصاف
(Mustafa Khattab,Quran. Com)
Indeed, We have granted you a clear triumph ˹O Prophet˺. 1
((اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا تھا ہم تم کو فتح مبین عطا کرنے والے ہیں))یہ آیات تلاوت فرما رہے تھے ، اور سب کو امن دے دیا ، کسی سے کوئی انتقام نہیں لیا ، یہ ایک ایسی مثال ہے جو دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی نہ ملے گی ،
اتنے کٹر دشمن ، خون کے پیاسے ، ظلم و تشدد کی چکی میں پسنے والے ، جب ان پر اقتدار حاصل ہوا تو نبی کریم ﷺ نے رحمت کا یہ معاملہ فرمایا
نبی کریم ﷺ کو اللّٰہ تعالیٰ کا اعزاز
حضور ﷺ کے اس حسنِ سلوک کا نتیجہ یہ ہوا کہ سب بڑے بڑے سردار جو اسلام دشمنی میں بہت کٹر تھے ، وہ بھی اسلام میں داخل ہو گئے ،اور اسلام قبول کیا ، نبی کریم ﷺ کی غلامی اختیار کی،
جن لوگوں نے آپ ﷺکی شان میں گستاخیاں کی تھیں انھوں نے آ کر معافیاں مانگی اور اسلام میں داخل ہوئے ، یہ اعزاز اللّٰہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو عطا فرمایا
سورۂ نصر ، پس منظر
غزوہِ خیبر کے بعد قرآن کریم نے جو نقشہ کھینچا تھا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی مدد آنے والی ہے ، مکہ مکرمہ فتح ہونے والا ہے ، تم آنکھوں سے دیکھو گے کہ لوگ اللّٰہ تعالیٰ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں
حرف بہ حرف آنکھوں سے لوگوں کو دیکھ لیا فتح مکہ سے بہت پہلے یہ منظر نبی کریم ﷺ کے سامنے کھینچ دیا گیا تھا ، کیونکہ اس میں پیشن گوئی تھی کہ عنقریب مسلمانوں کو عظیم فتح حاصل ہونے والی ہے
( بحوالہ مفتی تقی عثمانی صاحب)
۔ ابھی جاری ہے مزید انشاء اللّٰہ دوسرے حصے میں
Surah An Nasr Urdu tafsir
Surah An Nasr ke Fazilat
Surah An Nasr benefits
Surah An Nasr Urdu tarjuma tafsir by mufati taqi Usamni
Surah An Nasr meaning
Conclousion, Surah An Nasr Urdu tafsir
- اس سورت سے یہ پتہ چل رہا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے دنیا سے رخصت کا وقت قریب آ گیا ہے ،
- اپﷺکو اللّٰہ تعالیٰ نے اس لئے بھیجا تھا کہ مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہو
- اسلذم کو غلبہ حاصل ہو
- اسلام پھیل جائے
- اب اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا کہ, surah An Nasr Urdu tafsir
- آپ ﷺ کے دنیا میں تشریف لانے کا مقصد پورا ہونے والا ہے
- اللّٰہ تعالیٰ آپ ﷺ کو اپنے پاس بلا لیں گے
- اسی لئے اس میں آپ ﷺ کو تسبیح اور حمد اور استغفار کی تلقین فرمائی گئی ہے
Faqs, Surah An Nasr Urdu tafsir
- سوال, surah An Nasr Urdu tafsir
- سورۂ نصر کب نازل ہوئی اور اس کا تعلق کس واقعے سے ہے؟
- جواب:
- سورۂ نصر ہجرت کے بعد نازل ہوئی اور اس کا تعلق فتح مکہ سے ہے، جب لوگ بڑی تعداد میں اسلام میں داخل ہونے لگے۔
- سوال 2:
- سورۂ نصر میں نبی ﷺ کو کس بات کا حکم دیا گیا ہے؟
- جواب:
- نبی ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کی حمد کے ساتھ تسبیح کریں اور استغفار کریں کیونکہ اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے
- ۔سوال 3
- :سورۂ نصر ہمیں کون سا اہم سبق دیتی ہے؟
- جواب:
- یہ سورت ہمیں سکھاتی ہے کہ کامیابی اور فتح کے بعد غرور نہیں بلکہ عاجزی، شکر اور استغفار کرنا چاہیے۔
1 thought on “Surah An Nasr Urdu tafsir, surah Nasr have Amazing lesson, سورۂ نصر کی خصوصیت،surah Nasr have 3 important biyan”