Ramzan ke Fazilat in Urdu
Ramzan ke Fazilat in Urdu رمضان شھر القیام
اللّٰہ تعالیٰ نے انسانوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ،عبادت کے طریقے اور اوقات بھی بتاۓ ہیں ، رمضان وہ مہینہ ہے جس میں بہت سی عبادات کو جمع کر دیا گیا ہے
نماز کی بروقت ادائیگی
عبادات میں سب سے اہم چیز فرض نمازوں کی بروقت ادائیگی ہے ، اس کے علاوہ نوافل ، اشراق ، چاشت وغیرہ اللّٰہ کے قرب کا ذریعہ ہیں رمضان کی راتوں میں اخلاص کے ساتھ قیام کرنے پر پچھلے تمام گناہوں کی بخشش کی خوشخبری دی گئی ہے
رمضان کی فضیلت کی حدیث
نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان کی راتوں میں قیام کیا اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے
قرآن مجید کے حوالے سے فضیلت قیام
اللّٰہ تعالیٰ کے نیک بندے ہمیشہ راتوں کی عبادت کا اہتمام کرتے ہیں ، ” قرآن مجید میں آتا ہے” ” ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ،
اور وہ اپنے رب کو خوف اور امید کی حالت میں پکارتے ہیں ، اور ہم نے ان کو جو رزق دیا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں ،
رمضان کی برکت
عام دنوں میں قیام الیل کرنا ایک مشکل کام ہے لیکن رمضان المبارک کی برکت اور باجمات نماز تراویح کی صورت میں یہ آسان ہو جاتا ہے
متقین کی صفات
متقین کی صفات بیان کرتے ہوئے اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے ” وہ رات کو کم سوتے اور سحر کے وقت استغفار کرتے ہیں” نبی کریم ﷺ نے فرمایا فرض نمازوں کے بعد افضل ترین نماز رات کی نماز یعنی تہجد ہے ،
ایک اور موقع پر فرمایا تہجد ضرور پڑھا کرو کیونکہ وہ تم سے پہلے صالحین کی روش ہے اور تمہارے اپنے رب کے قرب کا وسیلہ ، گناہوں کو مٹانے کا ذریعہ ، اور گناہوں سے بچنے کا سبب ، دو کام ہیں
- ایک تو یہ کہ گناہوں کو دور کرتی ہے جو پہلے ہو چکے ہیں ان کو مٹا دیتی ہے
- اور دوسرے آئندہ گناہوں سے بچنے کی صلاحیت بھی اسی سے پیدا ہوتی ہے
تراویح پڑھنا سنت ہے
رمضان میں تراویح پڑھنا سنت ہے ، اور نبی کریم ﷺ کے قول و فعل دونوں سے ثابت ہے ، آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام کو بھی اس کی ترغیب دی ، تراویح جماعت کے ساتھ پڑھنا افضل ہے
آپ ﷺ نے اپنے گھر والوں اور بیویوں کو بھی تراویح کی جماعت میں شریک کیا اور طویل قیام کیا ، خصوصاً آخری عشرے میں رات کے قیام کے لیے جگایا
حضورﷺ کا رمضان المبارک میں طرزِ عمل
حضرت ابو ذر فرماتے ہیں کہ ہم نے حضور ﷺ کے ساتھ روزے رکھے آپ ﷺ نے 23ویں رات تک ہمارے ساتھ رات کی نماز نہیں پڑھی ، یعنی تراویح خود پڑھی ،
آپ ﷺ نے اپنی تراویح پڑھی اور صحابہ نے اپنی پڑھی ، پھر 23 ویں رات کو ہمیں لے کر کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ایک تہائی رات گزر گئی ، پھر 24 ویں رات کو نماز نہ پڑھائی
پھر25 ویں رات کو آدھی رات تک تراویح کی نماز پڑھائی ہم نے عرض کیا یا رسول اللّٰہ ﷺ ہماری آرزو تھی کہ آپ ﷺ باقی رات بھی ہمارے ساتھ نوافل پڑھتے
آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص امام کے فارغ ہونے تک اس کے ساتھ شریک رہا اس کے لئے پوری رات کا قیام لکھ دیا گیا
فلاح کا وقت
حضور ﷺ 27 ویں کی شب کو پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے ، ہمارے ساتھ اپنے گھر والوں اور عورتوں کو بھی بلا لیا ، یہاں تک کہ ہمیں اندیشہ ہوا کہ فلاح کا وقت نہ گزر جائے
راوی پوچھتے ہیں ابو ذر سے فلاح کیا ہے ، تو انھوں نے فرمایا سحری ، یعنی اتنی دیر تک پڑھاتے رہے ،
رمضان المبارک میں قیام کی فضیلت
اس سے پتہ چلتا ہے کہ رمضان المبارک میں صرف دن کی نہیں رات کی عبادت بھی کرنی چاہئے ، اس کی بہت فضیلت ہے ، اس میں جتنا لمبا قیام ہو اتنا اچھا ہے
پہلے 20 دن ایک روٹین میں تراویح پڑھتے ہیں ، لیکن جب 21 رات سے طاق راتیں شروع ہو جاتی ہیں اور آخری عشرہ جب شروع ہو جاتا تو اس وقت قیام والیل کی جو مدت ہےاس کو بھی بڑھا دینا چاہیے
جیسے کہ ہمیں نبی کریم ﷺ کے طریقے سے پتہ چلتا ہے ، کہ ہر رات کو مدت بڑھتی گئ، اللّٰہ تعالیٰ ہمیں بھی اس عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین
رمضان والعمرہ
اللّٰہ تعالیٰ کے گھر کی زیارت ہم سب کے دل کی تمنا ہوتی ہے ، حج اور عمرے کے لیے ہر مومن کا دل تڑپتا ہوا رمضان المبارک میں جہاں دیگر عبادات کا ثواب بڑھ جاتا ہے وہاں عمرے کا ثواب بھی حج کے برابر ہو جاتا ہے
ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب حجتہ الوداع سے واپس آۓ تو اپﷺ نے اُمِ سنان انصاریہ سے پوچھا تم حج کرنے کیوں نہیں گئی
انھوں نے عرض کی میرے خاوند کے پاس دو اونٹ تھے ، ایک پر وہ خود حج پر چلے گئے اور دوسرا ہماری زمین سراب کرتا ہے اس لیے میں نہیں جا سکی
آپ ﷺ نے فرمایا رمضان المبارک میں عمرہ کرنا میرے ساتھ حج کے برابر ہے ایک اور روایت میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب رمضان آۓ تو عمرہ کر لینا اس کا ثواب حج کے برابر ہے
رمضان المبارک برکتوں کا مہینہ
اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ رمضان المبارک میں عمرہ کرکے حج ہوگیا ہے نہیں حج کے برابر ثواب ملے گا حج نہیں ہوگا حج کا فریضہ ساکت نہیں ہوتا حج اپنے وقت پر ہی ہوتا ہے
رمضان کا مہینہ جس میں ہم ابھی ہیں یہ کس قدر برکتوں والا مہینہ ہے کہ اس میں ہر نیک کام کا اجر بڑھ جاتا ہے چاہے وہ
- نماز ہو
- روزہ ہو
- عمرہ ہو
- حج ہو
- زکوٰۃ ہو
- صدقہ خیرات ہو
- قیام ہو
- تلاوت قرآن
کوئی بھی نیک کام ہو ہمیں شوق سے کرنا چاہیے روزہ رکھ کر اگر آپ تھک جائیں یا قیام کر کے تھک جائیں تو دل میں کوئی ملال نہیں آنا چاہیے
بلکہ شکر ادا کرنا چاہیے اللّٰہ تعالیٰ نے ہمیں گناہوں کے کفارے کا موقع عطا کیا ہے

Ramzan ke Fazilat in Urdu.خلاصہ
رمضان المبارک اسلامی سال کا سب سے بابرکت مہینہ ہے جس میں قرآنِ پاک نازل Ramzan ke Fazilat in Urduہوا۔اس مہینے میں روزے رکھنا فرض ہے
اور نیکیوں کا ثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔یہ مہینہ صبر، تقویٰ اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے۔
Ramzan ke Fazilat in Urduسوال جواب ، FAQs
Ramzan ke Fazilat in Urdu.سوال 1: رمضان المبارک کو خاص فضیلت کیوں حاصل ہے؟
جواب: کیونکہ اس مہینے میں قرآنِ پاک نازل ہوا اور اس میں ایک رات لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے
۔سوال 2: رمضان میں کون سی عبادت فرض ہے؟
جواب: رمضان میں روزہ رکھنا ہر بالغ مسلمان پر فرض ہے
۔سوال 3: رمضان ہمیں کیا سبق دیتا ہے؟
جواب: رمضان ہمیں صبر، تقویٰ اور غریبوں کا احساس کرنے کا درس دیتا ہے۔