Learn Arabic for Quran-فعل مضارع کے صیغے آسان طریقے سے سیکھیں -lessons 5-Simple, Clear & Effective Explanation

learn Arabic for Quran

عربی گرائمر کے قاعدے

عربی گرائمر کے قاعدے اور صیغے یاد کرنا ایک نہایت آسان عمل ہے۔ یہ قاعدہے اور صیغے ذہن نشین کر لیں۔ یہ نہ صرف عربی زبان پر عبور حاصل کرنے میں مدد دے گا بلکہ قرآن مجید کے گہرے معانی سمجھنے میں بھی آسانی پیدا کریں

فعل مضارع کی تقسیم

جیسے فعل ماضی میں بتایا گیا تھا کہ صیغے بنانے کے لیے مصدر کے اخر میں الف اور واؤ لگنے سے تبدیلی ائے گی  یَضْرِبُ اس کے بھی سارے وہی صیغے ہوں گے۔ضَرَبَ میں تھا کہ اس نے کام کیا

،یَضْرِبُ وہ کام کرتا ھے فعل مضارع میں بھی اس کی وہی ترتیب ہوگی یعنی وہ کام کرتا ہے یا تم کام کرتے ہو یا میں کام کرتا ہوں،اس کی بھی وہی تقسیم ہوگی جو ضَرَبَ کی تھی۔

فعل مضارع کا استعمال

یَضْرِبُ۔وہ ایک مرد مارتا ہے، یَضْرِبُ کے آخر میں۔” ا ” الف لگا دیں گےیَضْرِبَان۔اس کے اخر میں کبھی ن اتا ہے کبھی نہیں اتا ۔ اخر میں ن ہونے یانہیں ہونےسےاسکےمعنی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

یَضْرِبَان۔ وہ دو مرد مارتے ہیں ۔ــ

یَضْرِبُوْنَ۔ وہ سب مرد مارتے ہیں ـ

مؤنث بنانے کے لیے

۔یہاں مؤنث بنانے کے لیے یَضْرِبُی”کی جگہ” ۃ” لگا دیں گے” تَضْرِبُ “وہ ایک عورت مارتی ہے ,اگے بھی ایسے ہی ہے جیسے دو مردوں کے لیے یَضْرِبَان تھا دو عورتوں کے لیے تَضربان ہوگا،

اگے تھوڑی سی تبدیلی آئے گی یَضْرِبُوْن، تھا وہ سب مرد مارتے ہیں مونث میں یَضْرِبْنَ ہو جائے گا ۔یَضْرِبّوْنَ وہ سب مرد مارتے ہیں یَضْرِبْنَ وہ سب عورتیں مارتی ہیں

فعل مضارع کی مثالیں

  • یَضْرِبُ۔ وہ ایک مرد مارتا ہے ـ
  • یَضْرِبَان۔ وہ دو مرد مارتے ہیں ـ
  • یَضْرِبّوْنَ۔ وہ سب مرد مارتے ہیں ۔

مونث بنانے کی مثال

تَضْرِبُ۔ وہ ایک عورت مارتی ہے ـ

تَضْرِبَانِ۔ وہ دو عورتیں مارتی ہیں ـ

یَضْرِبْنَ۔ وہ سب عورتیں مارتی ہیں ۔

یہ چھ صیغے ہو گۓ مضارع غائب کے

مخاطب کے چھ صیغے

تَضْرِبُ۔ تم ایک مرد ــ

تَضْرِبَانِ۔ تم دو مرد ــ

تَضْرِبُؤنَ۔ وہ سب مرد ــ

اہم نوٹ

یہاں یہ نوٹ کرنا ہے کہ مضارع کے صیغے میں تَضْرِبُ مؤنث واحد غائب کے لیے استعمال ہوا تھا

اور تَضْرِبَانِ،دو عورتیں کے لیے غائب کے صیغے میں۔یہ دونوں ایک جیسے ہیں

تو عربی میں ایسے ایک لفظ دو معنوں بھی استعمال ہو سکتا ہےیہ ہمیں سیاق وسباق سے پتہ چلے گا

فعل مضارع

یَضْرِبُ۔ وہ مارتا ہے ــ

تَضْرِبُ۔۔۔ تم مارتے ہو،(یہ مؤنث غائب کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے سیاق وسباق سے پتہ چلتا ہے معنی کا)۔

یَضْرِبَانِ۔ وہ دو مرد مارتے ہیں ــ

تَضْرِبَانِ۔ تم دو مرد مارتے ہو ــ

یَضْرِبّوْنَ۔ وہ سب مرد مارتے ہیں ــ

تَضْرِبُؤنَ۔ تم سب مرد مارتے ہو ــ

مؤنث کے صیغے

تَضْرِبُ۔ وہ ایک عورت مارتی ہےـــ تَضْرِبِیْنَ۔ تم ایک عورت مارتی ہو (اس کو تَضْرِبِیْ بھی کہ سکتے ہیں کیونکہ”ن”کبھی آتا ہے کبھی نہیں ۔

تَضْرِبَانِ۔ وہ دو عورتیں مارتی ہیں تَضْرِبَانِ۔ تم دو عورتیں مارتی ہو، (یہاں بھی مخاطب اور غائب کے لئےایک ہی لفظ استعمال ہوگا تَضْرِبَانِ)

یَضْرِبْنَ۔۔ وہ سب عورتیں مارتی ہیں

تَضْرِبْنَ۔ تم سب عورتیں مارتی ہو۔

متکلم(میں )کے دو صیغے

اَضْرِبُ، میں مارتا ہوں یا میں مارتی ہوں

نَضِرِبُ۔ ہم مارتے ہیں یا ہم مارتی ہیں

فعل مضارع کے چودہ صیغے

جیسے فعل ماضی میں ہم نے صیغے بنانے کا طریقہ سیکھا تھا، بالکل ویسے ہی فعل مضارع کے بھی چودہ صیغے ہوتے ہیں۔ فعل مضارع حال اور مستقبل کے معنی دیتا ہے، جیسے:

ضَرَبَ: اس نے مارا (ماضی)

یَضْرِبُ: وہ مارتا ہے یا مارے گا (مضارع)

فعل مضارع غائب کے چھ صیغے

1. یَضْرِبُ: وہ ایک مرد مارتا ہے

2. یَضْرِبَانِ: وہ دو مرد مارتے ہیں

3. یَضْرِبُوْنَ: وہ سب مرد مارتے ہیں

4. تَضْرِبُ: وہ ایک عورت مارتی ہے

5. تَضْرِبَانِ: وہ دو عورتیں مارتی ہیں

6. یَضْرِبْنَ: وہ سب عورتیں مارتی ہیں

نوٹ: یہاں “ی” شروع میں آتا ہے تو مطلب ہوگا “وہ” یعنی غائب کا صیغہ۔

مخاطب کے چھ صیغے

1. تَضْرِبُ: تم ایک مرد مارتے ہو

2. تَضْرِبَانِ: تم دو مرد مارتے ہو

3. تَضْرِبُوْنَ: تم سب مرد مارتے ہو

4. تَضْرِبِیْنَ: تم ایک عورت مارتی ہو

5. تَضْرِبَانِ: تم دو عورتیں مارتی ہو

6. تَضْرِبْنَ: تم سب عورتیں مارتی ہو

نوٹ: “ت” شروع میں آتا ہے تو مطلب ہوگا “تم” یعنی مخاطب کا صیغہ۔

متکلم کے دو صیغے

1. اَضْرِبُ: میں مارتا ہوں / میں مارتی ہوں

2. نَضْرِبُ: ہم مارتے ہیں / ہم مارتی ہیں

نوٹ: “ا” شروع میں آئے تو مطلب ہوگا “میں”، اور “ن” شروع میں آئے تو مطلب ہوگا “ہم”۔

صیغے کی دہرائی

یَضْرِبُ۔ وہ مارتا ہے

تَضْرِبُ۔ تم مارتے ہو (یہ مؤنث غائب کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے)

یَضْرِبَانِ۔ وہ دو مرد مارتے ہیں

تَضْرِبَانِ۔ تم دو مرد مارتے ہو

یَضْرِبُوْنَ۔ وہ سب مرد مارتے ہیں

تَضْرِبُوْنَنَ ۔ تم سب مرد مارتے ہو

تَضْرِبِیْنَ ۔ تم ایک عورت مارتی ہو

یَضْرِبْنَ۔ وہ سب عورتیں مارتی ہیں

تَضْرِبْنَ ۔ تم سب عورتیں مارتی ہو

اَضْرِبُ۔ میں مارتا ہوں

نَضْرِبُ۔ ہم مارتے ہیں

مجہول بنانے کے لیے

لفظ کے شروع میں” یَ”ھے “ی ” زبر کے ساتھ ھے ،اس کو “یُ ” “ی “پیش کر دینا ھے،جیسے ، یَضْرِبُ سے یُضْرّبُ۔ اور

نَضْرِبُ کو نُضْرَبّ کر دینے سے فعل مجہول بن جائے گا ،سب الفاظ کے ساتھ ایسے ہی کرنا ہے ،پیچھے ہم نے جتنی گردانیں پڑھی ہیں جیسے ،

اِکْتَسَبَ سے یَکْتَسِبُ تو سب میں بلکل یہی طریقہ ہوگا

جیسے مثال سے سمجھتے ہیں ،

یَکْتَسِبُ۔ تَکْتَسِبُ

یَکْتَسِبَانِ ۔ تَکْتَسِبَانِ

یَکْتَسِبوْنَ ۔ تَکْتَسِبوْنَ

تَکْتَسِبُ۔ تَکْتَسِبِیْنَ

تَکْتَسِبَانِ ۔ تَکْتَسِبَانِ

یَکْتَسِبْنَ ۔ تَکْتَسِبْنَ

اَکْتَسِبُ ۔

نَکْتَسِبُ ۔

اس میں یہی بات یاد رکھنی ہے کہ جو تبدیلی یہاں کی ھے وہی ہرلفظ کےساتھ ہوگی اور معنی بھی ویسے ہی تبدیل ہونگے جو یہاں ہوۓ ہیں ،

Learn Arabic for Quran

مضارع مجہول کی مثالیں۔

یَکْتَسِبُ مجہول میں یُکْتَسَبُ ہوگا۔

تَکْتَسِبُ مجہول میں تُکْتَسَبُ بن جائے گا۔

یَکْتَسِبُوْنَ مجہول میں یُکْتَسَبُوْنَ ہوگا۔

اَکْتَسِبُ مجہول میں اُکْتَسَبُ اور نَکْتَسِبُ مجہول میں نُکْتَسَبُ ہوگا۔

یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ہر صیغے کے ساتھ یہی تبدیلی ہوگی اور معنی بھی اس کے مطابق بدلیں گے۔

Learn Arabic for Quran

Learn Arabic in Urdu

Learn Arabic language

Learn Arabic for Quran course

(Lear Arabic for Quran )خلاصہ


فعلِ مضارع زبان میں حال اور مستقبل کے کاموں کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
اس کے صیغوں کو سمجھنا درست جملے بنانے میں مدد دیتا ہے۔
اردو گرامر سیکھنے کے لیے فعلِ مضارع کی پہچان نہایت ضروری ہے۔

سوالات (Learn Arabic for Quran

سوال 1: فعلِ مضارع کیا ہوتا ہے؟
جواب:
فعلِ مضارع وہ فعل ہوتا ہے جو حال یا مستقبل میں ہونے والے کام پر دلالت کرے، جیسے: وہ لکھتا ہے، ہم پڑھیں گے۔
سوال 2: فعلِ مضارع کے صیغے کتنے ہوتے ہیں؟
جواب:
فعلِ مضارع کے 14 صیغے ہوتے ہیں، جو واحد، تثنیہ اور جمع میں متکلم، مخاطب اور غائب کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
سوال 3: فعلِ مضارع کی ایک مثال صیغوں کے ساتھ دیں؟
جواب:
فعل لکھنا کا مضارع:
میں لکھتا ہوں، ہم لکھتے ہیں، وہ لکھتا ہے، وہ لکھتے ہیں وغیرہ۔

Leave a Comment