History of surah Nasr
سورۂ نصر خلاصہ (حصہ چہارم)
تو اس سورت میں کیا سبق دیا ہمیں ؟۔ اس میں یہ سبق دیا گیا ہے کہ انسان چاہے کیسی ہی عبادت کیوں نہ کر لے لیکن اللّٰہ تعالیٰ کی بندگی کا حق کوئی ادا نہیں کر سکتا ،
اس کی نعمتوں کا حق ادا نہیں ہو سکتا ، اس لئے بندے کا کام یہ ہے کہ کرتا بھی جائے اور ساتھ ساتھ اللّٰہ تعالیٰ سے مغفرت بھی مانگتا جائے ، کہ اے اللّٰہ اس کام میں مجھ سے جو کوتاہیاں ہوئی ہوں اس کو معاف کر دے

حدیث شریف قبولیت کا نسخہ
حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ رات تہجد میں اتنی دیر کھڑے ہوتے کہ پاؤں میں ورم آ جاتا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتی ہیں ایک دفعہ سردی میں آپ کو دیکھا سجدے میں اتنی دیر ہوگئی
مجھے خیال ہونے لگا اللّٰہ نہ کرے کہیں اس حالت میں آپ ﷺ کی روح تو پرواز نہیں کر گئی میں نے انگوٹھا ہلا کر دیکھا کہیں ایسا تو نہیں روح قبض ہو گئی ہو ، اتنا لمبا سجدہ اتنی عبادت فرما رہے ہیں
رات کے وقت میں کھڑے ہو کر پھر بھی فرما رہے ہیں ، اے اللّٰہ ہم آپکی معرفت کا حق ادا نہیں کر سکتے آپکی عبادت کا حق ادا نہیں کر سکے پاؤں پھٹ رہے ہیں ساری رات کھڑے رہے ورم آ رہا ہے
پھر بھی فرما رہے ہیں اے اللّٰہ ہم آپکی عبادت کا حق ادا نہیں کر سکے ، تو اس میں تعلیم یہ دی گئی ہے کہ
- کتنی بھی بڑی نیکی کر لو
- کتنی بڑی عبادت تمھارے ہاتھوں سرزد ہو
- اس پر اکڑ نے اترانے کی بجائے
- اس پر فخر و ناز میں مبتلا ہونے کی بجائے
- ایک تو اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو
- اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرو
- ساتھ استغفار بھی کرو
- کہ اے اللّٰہ اس میں جو کوتاہی ہوئی ہو اسکو معاف فرما
قرآن کریم میں اللّٰہ تعالیٰ کے نیک بندوں کا ذکر
قرآن کریم میں سورۂ ذاریات میں سورۂ ذاریات میں اللّٰہ تعالیٰ کے نیک بندوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا
- نیک بندے ایسے ہیں کہ رات کو بہت کم سوتے ہیں
- ان کے پہلو بستروں سے جدا رہتے ہیں
- یعنی عبادت کرتے ہیں
- جب صبح سحری کا وقت آتا ہے تو اللّٰہ تعالیٰ سے استغفار کرتے ہیں
- ساری رات عبادت کرنے کے بعد سحری میں استغفار کرتے ہیں
عبادت کے بعد استغفار،
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا یا رسول اللّٰہ ﷺ یہ ان لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے جو رات میں عبادت کرتے ہیں ، تو صبح استغفار کس چیز کا کرتے ہیں انھوں نے کوئی گناہ تو نہیں کیا جس پہ استغفار کر رہے ہوں
نبی کریم ﷺ نے فرمایا اپنی عبادت سے استغفار کر رہے ہیں یعنی اے اللّٰہ عبادت میں جو کوتاہی ہوئی ہو اس پر میں استغفار کرتا ہوں ، یہ طریقہ سکھایا قرآن کریم نے کہ عبادت کے بعد بھی استغفار کرو
نبی کریم ﷺ کا معمولِ استغفار
حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کا معمول تھا کہ جب نماز پوری کرنے کے بعد سلام پھیرتے تو تین مرتبہ استغفرُللہ ” فرماتے، ” یہاں بھی یہی بات کہ کوئی گناہ تھوڑی کیا بلکہ نماز پڑھی اللّٰہ کی عبادت کی
پھر فرمایا“استغفرُللہ ” اس کا یہ معنی ہوا کہ نماز تو پڑھ لی اے اللّٰہ مگر جیسے پڑھنی چاہئے تھی ویسے نہیں پڑھی گئی جیسے اسکا حق ادا کرنا تھا ویسے نہیں کر سکے تو اس لئے اے اللّٰہ میں آپ سے معافی مانگتا ہوں ، استغفار کرتا ہوں یہ طریقہ خود نبی کریم ﷺ نے سکھایا
عبادت میں شیطانی وسوسے
یہاں یہ سمجھنے کی بات ہے کہ بعض اوقات انسان کے دل میں یہ خیال پیدا ہونے لگتا ہے کہ ہم جو نماز پڑھتے ہیں یہ تو بے روح ہے ، بے جان ہے ان کے اندر کوئی حقیقت نہیں بس اٹھک بیٹھک کر کے وقت گزاری کر کے چلے جاتے ہیں
اس کے نتیجے میں بعض اوقات جو نماز پڑھنے کی توفیق ملی ہوتی ہے اسکی بھی ناشکری ہو جاتی ہے یعنی ہماری نمازیں کیا ہیں ، یہ کہنا بالکل فضول بات ہے ، یہ بات تو سہی ہے کہ حقیقتاً ہم حق ادا نہیں کر رہے
بہرحال اللّٰہ تعالیٰ کا فضل وکرم ہے کہ ان لوگوں سے حالت بہتر ہے جن کو یہ بھی توفیق نہیں ، بہت سے ایسے اللّٰہ کے بندے ہیں جن کو مسجد میں آنے کی توفیق نہیں ، جن کو نماز پڑھنے کی توفیق بھی حاصل نہیں
یہ اللّٰہ کا فضل و کرم ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اس جیسا نہیں بنایا ، بلکہ اپنے فضل وکرم سے حاضری کی توفیق دے دی نماز پڑھنے کی توفیق دے دی ، اس لئے نماز کی ناقدری نہیں کرنی چاہیے ،
شیطان کے دھوکے
اس کو ناقدری کر کے بعض اوقات شیطان کے دھوکے میں مبتلا کر دیتا ہے کہ نماز کی کوئی حقیقت نہیں کوئی فائدہ نہیں لہٰذا پڑھنے کیا ضرورت ہے یہ شیطانی بات دل میں آ گئی تو وہ نماز کو چھڑوا بھی دے گا
لہٰذا صحیح طریقہ جو اس آیت میں تلقین فرمایا گیا ہے کہ جو توفیق ہوئی ہے اس پر اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو کہ اے اللّٰہ آپ کا شکر ہے کہ آپ نے یہاں حاضری کی توفیق عطا فرمائی ، نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائی
اور ساتھ ہی ساتھ استغفار کرو کہ اے اللّٰہ توفیق توآپ نے عطا فرما دی جس پر میں شکر ادا کرتا ہوں لیکن یہ حقیقت بھی ہے کہ میں اس کا حق ادا نہیں کر سکا نجانے کتنی غلطیاں ہوئیں ہیں کتنی کوتاہیاں ہوئی ہیں کتنی بے توجہیاں ہوئی ہیں اس پر میں استغفار کرتا ہوں
History of surah Nasr
- Surah Nasr benefits
- Surah Nasr fazail
- Surah Nasr ke Fazilat
- Story behind surah Nasr
- Surah Nasr ke tilawat
Conclousion, History of surah Nasr
- جب بندہ اللّٰہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے
- اگر وہ بندہ بن کر رجوع کرے تو
- اللّٰہ تعالیٰ اسے اپنے فضل وکرم سے نواز دیتے ہیں
- History of surah Nasr
FAQs, History of surah Nasr
- 2) سورۃ النصر کا مرکزی پیغام کیا ہے؟
- جواب: اس سورت میں اللہ کی مدد، فتحِ مکہ اور اسلام کے پھیلاؤ کا ذکر ہے، اور ساتھ ہی تسبیح، حمد اور استغفار کی تلقین کی گئی ہے۔3
- ) سورۃ النصر پڑھنے کی فضیلت کیا ہے؟
- جواب: سورۃ النصر انسان کو شکرگزاری، عاجزی اور اللہ کی طرف رجوع کا درس دیتی ہے، خاص طور پر کامیابی کے بعد غرور سے بچنے کی تعلیم ملتی ہے۔
- History of surah Nasr
best way to Learn. keep it up