Surah Ikhlas Fazilat in Urdu
یہ سورۂ مبارکہ ان چند سورتوں میں سے ھے جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ دو مرتبہ نازل ہوئیں ، بہت سی روایات میں ہے کہ یہ مکی سورت ہے ، اس لئے کہ مشرکین مکہ نے سوال کیا تھا ، کہ ہمیں بیان کریں کہ آپ کس کو پوجتے ہیں
اس اعتبار سے یہ سورت مکہ میں نازل ہوئی ، اور بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ یہودیوں نے سوال کیا تھا کہ آپ اللّٰہ کی توحید کا اور اللّٰہ پر ایمان لانے کی جو دعوت دے رہے ہیں تو کیا صفات ہیں اسکی ،تو اس پہ یہ سورت نازل ہوئی ،لیکن یہ قول کمزور ہے
جی، یہ مختلف روایات ہیں ، امام قرطبی رحمہ اللّٰہ تفسیر القرطبی میں لکھتے ہیں کہ یہ مکی سورت ہے ، تفسیر ابنِ کثیر کے مطابق بھی یہ مکی سورت ہے ، امامِ طبری کی تفسیر میں بھی سورۂ اخلاص کو مکی قرار دیا گیا ہے ،

Surah Ikhlas Fazilat in Urdu
عقیدہ توحید کی عظمت کی وجہ سے اس سورت مبارکہ کا مقام بہت بلند ہے ، سورۂ اخلاص بہت مختصر لیکن نہایت عظیم اور جامع سورت ھے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا ، سورۂ اخلاص قرآن مجید کے ایک تہائی کے برابر ہے ،
شریعت کے اعتبار سے کسی کی قبر پر جا کر کچھ پڑھنے کا کوئی خاص طریقہ متعین نہیں ہے ، یہ ضرور کہا گیا ہے کہ کسی کی قبر پہ جاؤ تو سلام کرو، ({ اسلام وعلیکم ورحمتہ اللہ)}٫ لیکن کوئی خاص ذکر پڑھنا شریعت نے متعین نہیں کیا
بزرگ فرماتے ہیں کہ اگر کچھ پڑھنا ہو تو بہتر یہ ہے کہ تین بار سورۂ اخلاص پڑھ کر اس کا ثواب پہنچا دو ، تو تقریباً یہ ایسا ہو جائے گا کہ گویا آپ نے پورا قرآن پڑھ کر ایک قرآن کا ثواب پہنچا دیا یہ اس سورت مبارکہ کی فضیلت بیان ہوئی ہے
{{ ، حوالہ! مفتی تقی عثمانی صاحب}}
Surah Ikhlas ki ahmiyat aur Fazilat
پورے قرآن مجید میں یہی ایک سورت ھے جس میں “‘ صمد” ‘ کا لفظ آیا ہے ، سورۂ اخلاص کے مضامین کے اعتبار سے اسکی جو صفات ہیں اس کے پہلوؤں سے اس سورت مبارکہ کے اور بھی بہت سے نام رکھے گئے ہیں ،
- ان میں سے کچھ یہ بیان ہیں ،
- ۔ ” تفرید” ٫۔
- سورت الاساس
- سورۂ توحید
- سورۂ نجات
- سورۂ معرفہ
- تجرید
- سورۂ الصمد
{{ محترم ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم}}٫
surah Ikhlas ki Fazilat hadees
اس سورت مبارکہ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو جس قدر شغف تھا جتنی محبت تھی اس کے ضمن میں کچھ واقعات بیان ہوئے ہیں ، ایک روایت جو بخاری و مسلم دونوں میں بیان ہوئی ہے ،
اسکی راویہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہ ہیں ، یہ سورت اللّٰہ تعالیٰ کی توحید پر جس قدر جامع ھے اس کے حوالے سے صحابہ کرام کے یہ دو واقعات بیان ہوئے ہیں ،
سورۂ اخلاص کی شان
پہلا واقعہ جسکی راویہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہ ہیں ، مروی ہے ، حضور ﷺ نے ایک دستہ کسی مہم پر بھیجا اسکے سردار امیر الجیش تھے جہاں نماز پڑھی جاتی وہیں امام ہوتے ، وہ ہر رکعت میں قرآن مجید کا کوئی بھی حصہ پڑھتے
لیکن آخر میں سورۂ اخلاص ضرور پڑھتے لوگوں نے پوچھا آپ ایسا کیوں کرتے ہیں ، جبکہ آپ نے جو آیتیں پڑھ لی ہیں رکعت کا جو تقاضا ھے پورا ہوگیا ہے تو سورۂ اخلاص کیوں تلاوت کرتے ہیں ،
تو امیر نے جواب دیا مجھے اس سورت سے بہت محبت ھے ، میرے لئے ممکن نہیں کہ میں اس کے بغیر کوئی نماز پڑھوں ، جب وآپس آۓ تو لوگوں نے نبی کریم ﷺتک بات پہنچائی تاکہ آپ ﷺکی راۓ معلوم ہو کہ وہ صحیح کرتے تھے یا غلط
حضور ﷺ نے پوچھا آپ نے ان سے پوچھا کہ وہ ایسا کیوں کرتے تھے تو انہوں نے کہا جی ہاں پوچھا تھا انہوں نے جواب دیا تھا مجھے اس سورت سے بڑی محبت ھے ، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسے خوشخبری دے دو کہ
اگر اسے اس سورت سے محبت ھے تو اللّٰہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے یہ ھے اس سورت مبارکہ کی شان
سورۂ اخلاص کی شان کا ایک واقعہ
بخاری شریف میں حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ کی روایت ہے مسجد قبا میں ایک امام مقرر کئے گئے ان کا طرزِ عمل یہ تھا کہ وہ پہلے ہر رکعت میں سورۂ اخلاص تلاوت کرتے پھر قرآن کی کوئی اور آیات پڑھتے
ان کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا ، ان کی بات بھی حضور ﷺ تک پہنچائی گئی حضور ﷺ نے بلایا اور پوچھا کیوں کرتے ہو ایسا تو انہوں نے جواب دیا حضور ﷺ مجھے اس سورت سے بہت محبت ھے ،
تو آپ ﷺ نے فرمایا تیری جو محبت اس سورت سے ھے وہ تجھے جنت میں پہنچا دے گی بلکہ یہ الفاظ آۓ ہیں کہ اس نے تجھے جنت میں داخل کر دیا اس محبت نے جو تجھے اس سورت سے ھے
سورۂ اخلاص کی عظمت پہ حدیث
اس سورت کی بڑی عظیم فضیلت ھے ایک حدیث میں ہے اگر کوئی شخص یہ سورت صبح شام پڑھا کرے تو اللّٰہ تعالیٰ اس کی حاجتوں کے لئے کافی ہو جاتا ہے اور فرمایا کہ،
کسی بھی شخص کو اس وقت تک نہیں سونا چائیے جب تک وہ سورۂ اخلاص ، سورۂ الفلق ، سورۂ النَّاسَ نہ پڑھ لے
اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت
اس سورت میں درحقیقت اللّٰہ تعالیٰ کی صفات اور توحید کی حقیقت بیان فرمائی گئی ہے ، کہ بندے کا کام یہ ہے کہ عبادت کرے تو صرف اللّٰہ کی کرے ، اللّٰہ کے علاوہ کسی کی نہیں ،
عبادت صرف اور صرف اللّٰہ تعالیٰ کی کی جاۓ ، سورۂ اخلاص، اخلاص اس لئے کہلاتی ہے کہ اخلاص کے معنی ہیں کسی چیز کو خالص کرنا ، اس سورت مبارک میں اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کو خالص کرنا مقصود ہے ، عبادت صرف اللّٰہ کے لئے ہو ،
خالص اللّٰہ کے لئے ہو، اس کے ساتھ کوئی ملاوٹ نہ ہو اس لئے اسے سورت اخلاص کہتے ہیں ، اور اس سورت میں فرمایا گیا ہے کہ اللّٰہ ہی “الصمد” ھے، یعنی سب اس کے محتاج ہیں ،
وہ کسی کا محتاج نہیں ، تو جب سب اس کے محتاج ہیں تو ، حاجت روا ، مشکل کشا ، کارساز بھی سواۓ اللّٰہ کے اور کوئی نہیں ہو سکتا ،
“Conclusion” Surah Ikhlas Fazilat in Urdu
“Conclousion “ Surah Ikhlas Fazilat in Urdu
Surah Ikhlas Fazilat in Urdu
- عقیدہ توحید کی عظمت کی وجہ سے اس سورت کا مقام بہت بلند ہے
- سورۂ اخلاص عظیم سورت ھے، اسے کثرت سے پڑھنا باعث ثواب ہے
- یہ سورت محبت الٰہی اور جنت کا ذریعہ ہے
- جو کثرت سے پڑھے گا اس پہ اللّٰہ تعالیٰ رحمت کے دروازے کھولتا ہے
- اللّٰہ تعالیٰ رزق کے دروازے کھولے گا ، غیب سے رزق دے گا
FAQs ! Surah Ikhlas Fazilat in Urdu
Surah Ikhlas Fazilat in Urdu
- Question : سورۂ اخلاص کب پڑھنی چاہیے
1 :- جواب : رات کو سوتے وقت آخری تین سورتیں پڑھنا سنت ہے
2 . Question: سورت اخلاص کی فضیلت کیا ہے
2۔ جواب :- یہ سورت تہائی قرآن کے برابر ہے ایک روایت میں ہے کہ یہ سورت ہر چیز سے تجھے کفائت کرے گی
3 ۔ Question : سورت اخلاص کی فضیلت میں حدیث ؟
3.جواب : رسول اللّٰہ ﷺ فرماتے ہیں ہر چیز کی نسبت ھے اور اللّٰہ تعالیٰ کی نسبت یہ سورت ھے ۔