Surah Kafiron ka Amal
تعارف اور عظمت سورۂ الکافرون
حضور کریم ﷺ فجر کی دو سنتوں ، مغرب کی دو سنتوں میں ، طواف کے بعد کی دو رکعتیں ، ان میں پہلی رکعت میں سورۂ الکافرون کی تلاوت فرماتے ، اور وتر کی دوسری رکعت میں پھی اس سورۂ مبارکہ کی تلاوت فرمائی متعدد مقامات پر نبی کریم ﷺ نے سورۂ الکافرون پڑھنے کی فضیلت بیان فرمائی ہے ۔
سورۂ الکافرون کی فضیلت
یہ سورت چوتھائی قرآن کے برابر ہے ، حضور ﷺ اپنے بستر پر لیٹ کر اس سورت کی تلاوت فرمایا کرتے تھے ، “مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت حارث بن جبلہ نے کہا ، یا رسول اللّٰہ ﷺ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیں ،
کہ میں سونے کے وقت پڑھ لیا کروں ، آپ ﷺ نے فرمایا جب اپنے بستر پر جاؤ تو سورۂ الکافرون پڑھ لیا کرو یہ شرک سے بیزاری ھے ، اس۔ سورۂ مبارکہ میں مشرکین کے عمل سے بیزاری کا اعلان ھے، اور اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کے اخلاص کا حکم ھے ۔

Surah Kafiron ka Amal
چاروں قل پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر دم کر کے اپنے پورے جسم پر پھیر لیں ، اس سے اللّٰہ تعالیٰ اس کی برکت سے بہت سے شیاطین ، بہت سی بلاؤں سے انسان کی حفاظت فرماتے ہیں ، حضور ﷺ کا بھی یہی معمول تھا ۔
نبی کریم ﷺ نے حضرت جبیر رضی اللّٰہ عنہ کو سفر کے دوران سفر کی مشکلات سے بچنے کے لئے یہ سورت مبارکہ پڑھنے کا بتایا ، وہ صحابی فرماتے ہیں جب میں نے اس سورت کو سفر میں پڑھنا اپنا معمول بنا لیا کہ جس بھی سفر میں جاتا یہ سورت بکثرت تلاوت کرتا ،
تو اللّٰہ تعالیٰ کا کرم ایسا ہوا کہ اس سے پہلے جو سفر مجھے پیش آتے تھے ان میں بکثرت مشکلات آتیں تھیں ، پریشانیاں ہوتی تھی ، بعض اوقات فقر و فاقہ کی نوبت آجاتی ،لیکن جب سے نبی کریم ﷺکا یہ عمل شروع کیا تو
اللّٰہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہر سفر میں کامیابی ہوتی ہے اور اور ہر سفر خوشحال رہتا ہے ،
- معمول میں ہمیں کم سے کم تین مرتبہ
- صبح کی دو سنتوں میں
- مغرب کی دو سنتوں میں
- اور رات کو سوتے وقت اس سورت کو پڑھنے کا معمول بنانا چاہئیے
- اور سفر کے دوران بھی اسے بکثرت تلاوت کرنا چاہیے
Surah Kafiron ka Markazi khiyal
اس سورت مبارکہ میں حضور ﷺ کی دو ٹوک دعوت ، دعوت توحید ھے، اور نبی کریم ﷺ کا فرمان کہ شرک کے ساتھ کوئی سمجھوتا نہیں کیا جاۓگا ، حضور ﷺ نے فرمایا ، نہ ماضی میں ، نہ ہی آج اور نہ کبھی آئندہ تمھارے جھوٹے معبودوں کی عبادت میں نہیں کروں گا ۔
یہ ھے توحید کی دعوت اور امت کو تعلیم دی کہ دین پر کبھی سمجھوتا نہیں کرنا ، اور توحید کی دعوت پر استقامت کا مظاہرہ کرنا ، ہر بندے پر فرض ہے کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت اخلاص کے ساتھ کرے اور اللّٰہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے
Surah Kafiron ka Amal
حضور کریم صلی نے فرمایا “تم اس اللّٰہ کی عبادت نہیں کرتے جس کی میں کرتا ہوں ، یعنی یہ بتانا مقصد ہے کہ نام تو تم بھی اللّٰہ کی عبادت کا لیتے ہو ، وہ بِسْمِک اللھُمَ، کہا کرتے تھے ، قرآن مجید میں آتا ہے مشرک جب کبھی مشکل میں گرتے تھے ، جب کشتی میں سفر کر رہے ہوتے ، طوفان آ جاتا اور کشتی خطرے میں آ جاتی تو سب بتوں کو بھول کر اللّٰہ کو پکارتے کہ اے اللّٰہ ہمیں اس مشکل سے نکال دے ۔
پھر جب اللّٰہ تعالیٰ مشکل سے نکال کر کنارے پہ پہنچاتے تو وہ پھر اللّٰہ کو بھول کر بتوں کی پوجا کرنے لگتے ، مشرک اللّٰہ کو تو مانتے تھے زبان سے کہتے تھے کہ ہم اللّٰہ تعالیٰ کو مانتے ہیں لیکن اس آیت کریمہ نے بتایا
وَلاَ اَنْتُمْ عَبِدُوْنَ مَا اَعْبُدْ
جس خدا کی میں عبادت کر رہا ہوں، حقیقت میں
تم اس خدا کی عبادت نہیں کرتے۔٫
چاہے نام لیتے ہو اس کا لیکن حقیقت میں وہ خدا کوئی اور ہے جس کی تم عبادت کرتے ہو ، جس کی میں عبادت کرتا ہوں میرا خدا تو وہ ھے جس کے ساتھ کوئی ساجھی نہیں ، کوئی شریک نہیں ، کائنات کا خالق ومالک اور نظام چلانے والا تنہا وہی ہے ، اور تم جس کو خدا کہتے ہو اللّٰہ کا نام لے کر ، جس خدا کا حوالہ دیتے ہو ،
وہ تمہارے تصور اور خیال کے مطابق ایسا خدا ھے جو اپنے سارے اختیارات ان بتوں کو دے کر خالی بیٹھا ہے ، تمہارے عقیدے کے مطابق جو کر رہےہیں وہ یہ بت کر رہےہیں رزق دے رہے صحت دے رہے ، یہ ہے تمہارا عقیدہ ، یہ اللّٰہ کو ماننا نہ ہوا ، یہ اللّٰہ کی عبادت نہیں ھے ،
قرآن کریم میں ارشاد ہے ” کیونکہ تم نے اس کے ساتھ عبادت میں شریک ٹھہرالیا ھے ، ” ٫
Surah Kafiron ka Sabaq
اس سے ہمیں جو سبق مل رہا ھے وہ یہ کہ ہمارے مسلمانوں میں بعض اوقات اس قسم کے عقیدے اور اس قسم کے اعمال پیدا ہو گئے ہیں جو ان کافروں اور مشرکوں کے عقیدوں سے قریب ہیں ، {( اللّٰہ تعالیٰ حفاظت فرمائے })٫ جیسے انسانوں میں کسی انسان کو یا بزرگ ، یا ولی اللہ کو یا کسی پیغمبر کو کہتے ہیں کہ یہ مشکل کشا ہے ،
یہ حاجت روا ہے ، یہ مختار کل ھے ، اس سے ان کا مطلب یہ ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ان کو اختیار سونپ دیا ہے ({ نعوذباللہ}) یہ مشکلات دور کریں گے ، وہ کتنا بڑا بزرگ کیوں نہ ہو ، یا ولی اللہ ہو ان سب کی عظمت ہماری سر آنکھوں پہ ، لیکن ان کو اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ جا کر ملا دینا اور اللّٰہ تعالیٰ کی صفات اس کی طرف منسوب کردینا ان سے مرادیں مانگنا
، یہ سب اس شرک کے پاس پہنچا رہا ہے جو وہ کافر اور مشرک کرتے تھے اور جس کے بارے میں قرآن نے فرمایا کہ
لَا تَعْبُدُؤنَ مَا اَعْبُدْ
سورۂ الکافرون سے ملنے والا دوسرا سبق
دوسرا جو اس سے ہمیں سبق ملتا ہے وہ یہ کہ صلح اور مصالحت اچھی چیز ھے لیکن تب کہ اپنے اصولوں کو قربان نہ کرنا پڑے ، اگر صلح یا مصالحت ان شرائط پہ ہو جس کے ذریعے اپنے دین کا نقصان ہو رہا ہے یا دین کی قربانی دینی پڑ رہی ہے یا دین کی شریعت کے کسی حکم کی قربانی دینی پڑ رہی ہے تو ایسی صلح کسی مسلمان کے لئے قابلِ قبول نہیں ۔
حضور اقدس ﷺ کے عمل
نبی کریم ﷺ صلح کے قائل تھے آپ ﷺ نے مدینہ منورہ میں بہت سے یہودیوں سے صلح کی حدیبیہ کے موقع پر مشرکین مکہ سے صلح کی ، قرآن نے بھی فرمایا ہے کہ اگر کافر لوگ صلح پر آمادہ ہوں تو تم بھی آمادہ ہو جاؤ ، صلح کبھی ایسی شرائط کے اوپر قابلِ برداشت اور قابلِ قبول نہیں
جس کے نتیجے میں انسان کا دین مجروح ہو، نبی کریم ﷺکا صاف صاف حکم ھے کہ اللّٰہ کی نافرمانی کر کے کسی بھی انسان کی اطاعت وہ انسان کے ذمے واجب نہیں ماں باپ ، بہن بھائی ، شوہر بیوی ، سب کے ساتھ دنیا میں اچھا سلوک کرنا لیکن ان کی کوئی ایسی بات نہیں ماننا جو اللّٰہ کی مرضی کے خلاف ہو
Surah Kafiron ke faiday
- سورۂ کافرون پڑھ کر ہاتھوں پر دم کرکے جسم پر پھیر لیں
- اس کی برکت سے انسان بہت سے شیاطین اور بلاؤں سے محفوظ رہتا ہے
- نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو سفر کے دوران سورۂ الکافرون کو پڑھنے کا معمول بناۓ گا وہ
- دوسروں سے زیادہ خوشحال ہوگا
- دوسروں سے زیادہ پر امن ہوگا
- دوسروں سے زیادہ پر مسرت ہوگا
- اللّٰہ تعالیٰ اسے کامیاب اور خوشحال رکھیں گے ، انشاء اللّٰہ تعالیٰ
Conclousion ! Surah Kafiron ka Amal
- اللّٰہ تعالیٰ نے ہر چیز کی حدود مقرر فرمائی ہیں
- جب انسان ان حدود کے اندر رہ کر کام کرتا ہے تو وہ اللّٰہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہوتا ہے
- یہ سورت ہمیں بتاتی ہے کہ جہاں ایسی مصالحت ہو جس سے دین مجروح ہو وہ جائز نہیں
- جہاں شریعت نے گنجائش دی ہے وہ صلح کے لئے اختیار کر سکتے ہیں
- اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت جو ہمارا فریضہ ہے اسی صورت معتبر ہے جب اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے
FAQs, Surah Kafiron ka Amal
- Question: Surah Kafiron ka Amal
- سورۂ الکافرون کب پڑھیں Answer : Surah Kafiron ka Amal
- فجر کی دو سنتوں میں
- مغرب کی دو سنتوں میں
- وتر کی دوسری رکعت میں
- طواف کے بعد کی دو رکعتوں کی پہلی رکعت میں
- سفر کے دوران
2 : Question Surah Kafiron ka Amal
سورۂ الکافرون کے فائدے کیا ہیں
Answer : Surah Kafiron ka Amal
- سورت کافرون پڑھ کر ہاتھوں پر دم کریں اور اپنے جسم پر پھیرنے سے شیاطین اور بلاؤں سے محفوظ رہتے ہیں
- سفر کے دوران پڑھنے سے سفر کی مشکلات سے محفوظ رہتے ہیں
- رات سونے سے پہلے بستر پر لیٹ کر پڑھنا ، شرک سے بیزاری ھے
3: Question, Surah Kafiron ka Amal
سورۂ کافرون کی عظمت کیا ہے ،
Answer !
- اس سورت میں نبی ﷺ نے دو ٹوک دین کی دعوت دی یعنی دعوت توحید
- شرک کے ساتھ کوئی سمجھوتا نہیں
- توحید کی دعوت پر استقامت کا مظاہرہ کرنا