Surah Kafirun in Urdu tarjuma tafseer Powerful 5 benefits of Surah AlKafrun

Surah Kafirun in Urdu tarjuma tafseer ر

تعارف سورۂ الکافرون

یہ سورت چوتھائی قرآن کے برابر ہے ، مسند احمد کی ایک روایت میں مروی ہے کہ مہینہ بھر تک آپ ﷺ کو دونوں رکعتوں میں یہی دونوں سورتیں پڑھتے ہوئے پایا ، صبح کی دو سنتوں میں بھی آنحضرت ﷺانہی دونوں سورتوں کی تلاوت کیا کرتے تھے ،

ایک صحابی تھے حضرت جبیر رضی اللّٰہ عنہ ، ان سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسا طریقہ بتاؤں کہ جب کبھی تم سفر کرو تو سفر کے دوران تم دوسروں سے زیادہ خوشحال رہو دوسروں سے زیادہ پر امن رہو ، اور دوسروں سے زیادہ مسرت میں رہو ،

تو ان صحابی نے عرض کیا یا رسول اللّٰہ ﷺ مجھے تو سفر پیش آ تے رہتے ہیں اور مجھے ایسے عمل کی بلاشبہ ضرورت ہے ، تو آپ ﷺ نے فرمایا ((قُل یَآیُّھَاالْکٰفِرُؤنَ)) پڑھا کرو سفر کے دوران تو انشاء اللّٰہ اللّٰہ تعالیٰ تمہیں سفر میں کامیاب اور خوشحال رکھیں گے

وہ صحابی فرماتے ہیں جب میں نے اس کو اپنا معمول بنا لیا ، جب بھی سفر میں جاتا یہ سورت بکثرت تلاوت کرتا تو اللّٰہ تعالیٰ کا فضل و کرم ایسا ہوا کہ اس سے پہلے جو سفر مجھے پیش آتے تھے ان میں مجھے بہت مشکلات ہوتی تھیں ، لیکن جب سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہ عمل شروع کیا تو اللّٰہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہر سفر میں کامیابی ہوتی ہے اور ہر سفر میں خوشحال رہتا ہوں

مسند احمد کی ایک اور روایت میں ہے کہ ، حضرت حارث بن جبلہ رضی اللّٰہ عنہ نے کہا یا رسول اللّٰہ ﷺ! مجھے کوئی ایسی چیز بتائیں کہ میں سونے کے وقت اسے پڑھ لیا کروں ، آپ ﷺ نے فرمایا ، جب تم رات کو بستر پر جاؤ تو سورۂ کافرون پڑھ لیا کرو ، یہ شرک سے بیزاری ھے ،

شانِ نزول سورۂ الکافرون

اس سورت کا شانِ نزول یہ ہے کہ ، جب حضور ﷺ نے مکہ مکرمہ میں اسلام کی دعوت شروع کی لوگوں کو توحید کی طرف بلانا شروع کیا ، تو جن کے مقدر میں ہدایت تھی انھوں نے آپ ﷺ کے ارشاد پر عمل کیا اور اسلام میں داخل ہوئے ، لیکن مکہ کے بڑے بڑے سردار جو مشرک اور کافر چلے آ رہے تھے

جن کو نبی کریم ﷺ کی دعوت سے اندیشہ تھا کہ ان کی چودھراہٹ خطرے میں پڑ جائے گی ، انھوں نے آپ ﷺکی مخالفت پر کمر باندھے رکھی ، یہاں تک کہ مسلمانوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ، اس سے کافروں کو خطرہ ہونے لگا کہ یہ تعداد بڑھتی رہی تو ہمارے لئے مسلہ بنے گی

اس موقع پر ان کافروں نے نبی ﷺ کے پاس آ کر مصالحت کی پیشکش کی ، کہ ہمارے اور آپ کے درمیان اختلافات کی خلیج بڑھتی جا رہی ہے ، آئیے ہم ایک بات پر متفق ہو جائیں ، اس پہ مصالحت کر لیں انھوں نے پہلی تجویز پیش کی کہ جس خدا کی آپ دعوت دیتے ہیں ہم بھی اس کی عبادت کرنے کو تیار ہیں

لیکن ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کریں اگلے سال ہم آپ کے خدا کی عبادت کریں گے ، یہ سنتے ہی نبی کریم ﷺ نے انکار کردیا ، پھر انھوں نے ایک اور پیشکش کی کہ آپ ایسا کرو جب مسجد حرام میں آئیں تو آپ جس خدا کو مانتے ہیں اسی کی عبادت کریں ، لیکن اندر جو بت رکھے ہیں بس ان کو ہاتھ لگا لیا کریں

نبی کریم ﷺ نے اس سے بھی انکار کردیا ، پھر تیسری پیشکش کی کہ ، ہم آپ کو ہر طرح کا مال و دولت دینے کو تیار ہیں سردار ماننے کو تیار ہیں ، عرب کا بہترین حسن و جمال آپ کو پیش کرتے ہیں لیکن آپ صرف ہمارے بتوں کی معبودیت کا انکار نہیں کریں خاموشی اختیار کر لیں یہ نہ کہیں کہ یہ خدا نہیں

تو اس موقع پر اللّٰہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی اور نبی کریم ﷺکو ان کافروں کی پیشکشوں کا جواب دینے کی تعلیم فرمائی ،

مومن بتوں کی عبادت نہیں کر سکتا

  • اس سورۂ مبارکہ میں مشرکین کے عمل سے بیزاری کا اعلان ھے ۔ کہ
  • جس خدا کی میں عبادت کر رہا ہوں حقیقت میں تم اس خدا کی عبادت نہیں کر رہے
  • اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کے اخلاص کا حکم ھے ۔
  • جس کے ساتھ کوئی ساجھی نہیں ، جس کے ساتھ کوئی شریک نہیں
  • گو یہاں خطاب مکہ کے کفار قریش سے ھے ،
  • لیکن دراصل روۓ زمین کے تمام کافر مراد ہیں ۔
Surah Kafirun in Urdu tarjuma tafseer

Surah Kafirun in Urdu tarjuma tafseer

سورۂ الکافرون اردو ترجمہ تفسیر

Surah Kafirun in Urdu tarjuma tafseer

قُل یَآیُّھَاالْکٰفِرُؤنَ۔ 1:٫

ترجمہ ! کہہ دیجئے کہ اے کافرو

تفسیر آیت، 1

یہ ان کافروں سے خطاب ھے جن کے بارے میں طے تھا کہ وہ کبھی ایمان نہیں لانے والے ان کے بارے میں اللّٰہ تعالیٰ جانتے تھے کہ ان کے سامنے کتنے روشن دلائل آجائیں یہ حق کو نہیں مانیں گے ،

2 :-لَآ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُؤن۔

ترجمہ ، ! میں عبادت نہیں کرتا اس کی جس کی تم عبادت کرتے ہو،

تفسیر ، آ یت 2

یہ ممکن نہیں ہے ، میں اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کر سکتا ، میں تو اس مقصد اور مشن کے لئے بھیجا گیا ہوں کہ اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت کی طرف لوگوں کو دعوت دوں اور شرک سے منع کروں ، اس لئے میرے لئے یہ بات قابل قبول نہیں ہے ،

((اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا ، ان لوگوں کی پیشکش کے جواب میں کہہ دیجئے کہ ))

اے کافر لوگو ، میں ان چیزوں کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم عبادت کرتے ہو

3 :- وَ لَآ اَنْتُمْ عٰبِدُؤنَ مَآ اَعْبُدُ

ترجمہ :-! اور نہ تم عبادت کرنے والے ہو اس کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں

تفسیر آیت:: ؛3

یعنی یہ بتانا مقصود ہے کہ نام تو تم بھی اللّٰہ کی عبادت کا لیتے ہو لیکن در حقیقت جس خدا کو تم مانتے ہو کوئی اور ہے ، اور میں جس کو خدا مانتا ہوں وہ کوئی اور ہے ، میں تو اس خدا وحدہُ لا شریک کی عبادت کرتا ہوں جس کی خدائی میں کوئی شریک نہیں ھے اور تم ایسے خدا کی عبادت کرتے ہو جس کے ساتھ بیشمار شرکاء ہیں ۔۔

4 :- وَ لَآ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْ ۔

ترجمہ :-؛ اور نہ میں عبادت کروں گا جسکی تم عبادت کرتے ہو

تفسیر آیت ، :-؛! 4

پھر دہرایا ؛ جن کی تم عبادت کرتے رہے ہو اب تک ان کی میں آئندہ بھی کبھی عبادت کرنے والا نہیں ہوں ، میں ہرگز ان کی عبادت کرنے والا نہیں ہوں ، قیامت تک کبھی بھی ان کی عبادت نہیں کروں گا

5 : – وَ لَآ اَنْتُمْ عٰبِدُؤنَ مَآ اَعْبُدُ

ترجمہ :-! اور نہ تم عبادت کرنے والے ہو اس کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں

تفسیر آیت: -؛5

پھر دہرایا تم بھی آئندہ عبادت نہیں کروگے اس خدا کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں ، اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ کو توحید کے ساتھ نہیں مانتے ، اللّٰہ تعالیٰ کو ایک قرار دے کر نہیں مانتے ، تمہارا عقیدہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے پیدا کر دیا سارے جہان کو لیکن پیدا کرنے کے ساتھ اپنے سارے اختیارات دوسرے دیوتاؤں کو سونپ دیئے ہیں

لہٰذا ان کی بھی عبادت کرنی چاہیے ، تاکہ وہ ہمیں رزق دیں ، شفا دیں ، وغیرہ ، یہ ان کا عقیدہ تھا اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں باوجود یہ کہ تم زبان سے کہتے ہو کہ ہم اللّٰہ کو مانتے ہیں لیکن حقیقت میں تم نہیں مانتے ، یہ اللّٰہ کو ماننا نہ ہوا ، کیونکہ تم نے اس کے ساتھ عبادت میں دوسرے دیوتاؤں کو شریک ٹھہرالیا ھے،

6:- لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْن

ترجمہ :-؛ تمہارے لئے تمہارا دین اور میرے لئے میرا دین

تفسیر آیت ، :- 6

یعنی مجھے جو دین اللّٰہ تعالیٰ نے سکھایا ہے جس دین کا میں قائل ہوں وہ اور ھے، اور جس کے تم قائل ہو وہ الگ دین ھے ، تم جانو اور تمہارا دین میں اور میرا دین ، لہٰذا جو مصالحت کی پیشکش کر رہے ہو یہ کسی طرح قابل قبول نہیں ،

سورۂ الکافرون کا مختصر جائزہ

حضور ﷺ نے دنیا کو بتایا کہ خدا کیا ہوتا ھے اور مخلوق کیا ہوتی ھے، اس سورت مبارکہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ھے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت جو کہ بندے کا فریضہ ھے وہ اسی وقت معتبر ہے جبکہ اللّٰہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے ، خدا تو وہ ھے جس کے ساتھ کوئی ساجھی نہیں ، جس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ، جو پوری کائنات کا خالق ومالک ھے، اور کائنات کا نظام چلانے والا وہی تنہا ھے

Conclousion : Surah Kafirun in Urdu tarjuma tafseer
  • اس سے ہمیں زندگی میں بہت سے سبق ملتے ہیں ، اور بڑی ہدایات حاصل ہوتی ہیں ،
  • خود ہمارے مسلمانوں میں بعض اوقات اس قسم کے اعمال پیدا ہو گئے ہیں جو کہ ان کافروں کے عقیدوں سے قریب ہیں
  • جیسے کسی انسان کو
  • کسی بزرگ کو
  • کسی ولی اللہ کو
  • کہتے ہیں کہ یہ مشکل کشا ہے ،

اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ان کو اختیار سونپ دیا ہے کہ یہ ہماری مشکلات دور کریں گے (اللّٰہ بچاۓ) اس کو اللّٰہ کے ساتھ ملا دینا ، اللّٰہ تعالیٰ کی صفات اس سے منسوب کر دینا یہ اس شرک تک پہنچا رہا ہے قرآن کہتا ہے کہ آگر تم ایسا کر رہے ہو تو تم اللّٰہ کی عبادت نہیں کر رہے تم نے تو ان کی عبادت شروع کر دی ہے

FAQs, Surah Kafirun in Urdu tarjuma tafseer
  1. Surah Kafirun in Urdu tarjuma tafseer
  2. What is the best time to recite Al-Kafiroon?

Answer,1,

  1. سونے سے پہلے (سنت)طواف کے بعد دو رکعت نماز میںعام حالات میں جب چاہیں پڑھ سکتے ہیں
  2. سونے سے پہلے (سنت)
  3. طواف کے بعد دو رکعت نماز میں
  4. عام حالات میں جب چاہیں پڑھ سکتے ہیں

  1. Surah Kafirun in Urdu tarjuma tafseer
  2. What are the benefits of reciting Surah Al-Kafirun?
  • Answer:
  • توحید اور ایمان کی مضبوطی
  • شرک اور باطل سے حفاظت
  • نیت اور عقیدہ میں پاکیزگی
  • دل میں استقامت پیدا کرتی ہے

  1. Surah Kafirun in Urdu tarjuma tafseer
  2. How to recite al-Kafirun?
  • صاف تجوید
  • ، آہستہ آواز میں
  • توجہ اور سمجھ کے ساتھ:
  1. Surah Kafirun in Urdu tarjuma tafseer
  2. Which surah is kafirun for Umrah?

Answer :

عمرہ کے طواف کے بعد دو رکعت نماز میں پہلی رکعت میں سورہ کافرون پڑھنا سنت ہے۔

Leave a Comment