خوفِ الٰہی کی فضیلت اور اہمیت
قرآن اور حدیث کی روشنی میں خوف الہٰی کی فضیلت اور اہمیت واضح ہے ،اصل کامیابی اللّٰہ کی معرفت اور قربت میں ہے اپنا دل اللّٰہ سے جوڑ لیں تو دنیا کا کوئی ڈر غالب نہیں آئے گا
خوف الہٰی کیا ہے؟ ــ تعارف
خوف کا مطلب ہے اللّٰہ کی عظمت، جلال، ناموں اور صفات کو جان کر دل میں پیدا ہونے والی ہیبت اور محبت والا خوف،
خوف اور خشیت میں فرق
خوف عام ڈر ہے جبکہ خشیت علم والا ڈر ہے، جو اللّٰہ سے ڈرتا ہے وہ ہر چیز سے محفوظ ہو جاتا ہے، اور جو اللّٰہ سے نہیں ڈرتا وہ ہر چیز سے ڈرتا ہے ،
خوف الہٰی اور اللّٰہ کی محبت
اپنے آپ کو اللّٰہ تعالیٰ کے خوف میں مبتلا رکھو،اللّٰہ تعالیٰ کا ڈر تمھارے سینے میں موجود رہے، عمومی طور پر انسان جس سے ڈرتا ہے اس سے وحشت بھی کرتا ہے، لیکن اللّٰہ سے بندہ ڈرتا بھی ہےاور محبت بھی کرتا ہے
بندہ مومن کے دل میں جو ڈر ہے یہ محبت کا ڈر ہے، یہ بندہ مومن کی شان ہے، جو اہل ایمان ہیں سب سے زیادہ اپنے رب سے محبت کرتے ہیں،
جب وہ اتنی محبت کرتے ہیں رب سے تو وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں ہمارا رب روٹھ نہ جاۓ ہم سے ہمارا رب ہم سے ناراض نہ ہو جائے، یہ احساس جب انسان کے ساتھ ہمیشہ جڑا رہے گا تو پھر اسکی زندگی کتنی خوبصورت ہوگی اور پھر وہ گناہوں سے کیوں نہیں بچ پائے گا۔
قرآن میں خوفِ الٰہی کی فضیلت اور اہمیت
سورۂ الرحمن میں ہے
وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ جَنَّتَانِ ٤٦
اور جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اس کے لئے دو باغ ہیں
اللّٰہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ ارشاد فرمایا کہ جس کے دل میں اللّٰہ تعالیٰ کا خوف ہوگا، خوفِ خدا اور خشیت الٰہی ہوگی، فرمایا ہم نے اس کے لئے دو جنتوں کو تیار کیا ہے
حدیث میں خوفِ الٰہی کی فضیلت اور اہمیت
سورۂ النازعات میں اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں، یقیناً جو شخص اللّٰہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اور جس نے اپنے آپ کو خواہشات سے بچایا یقیناً اس کا ٹھکانہ جنت ہوگا
حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” تم جہاں کہیں بھی ہو اللّٰہ سے ڈرو، اور اگر تم سے کوئی برائی ہو جائے تو تم فوراً اس کے بعد نیک عمل کرو، تاکہ یہ نیک عمل اس برائی اور گناہ کو مٹا دے
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا اللّٰہ تعالیٰ کو دو قطروں سے زیادہ کوئی چیز محبوب نہیں ایک وہ آنسو کا قطرہ جو انسان کی آنکھوں سے صرف اللّٰہ کے ڈر کی وجہ سے نکلے،
اور ایک وہ خون کا قطرہ جو انسان اللّٰہ کے راستے میں بہاۓ جب وہ زخمی یا شہید ہو اللّٰہ کی راہ میں، یہ دو قطرے اللّٰہ کو بہت پسند ہیں
خوفِ الٰہی کی فضیلت اور اہمیت
قیامت کے دن اللّٰہ تعالیٰ سات آدمیوں کو اپنے عرش کا سایہ نصیب فرمائے گا، جس دن کوئی سایہ نہیں ہوگا سواۓ اللّٰہ کے عرش کے ساۓ کے
ان میں ایک خوش نصیب انسان وہ ہوگا جو اللّٰہ کے خوف سے روۓ اور اس کی آنکھوں سے آنسو کے قطرے بہہ جائیں، اللّٰہ تعالیٰ اس انسان کو قیامت کے دن اپنے عرش کا سایہ نصیب فرمائیں گے
خوفِ الٰہی کیسے پیدا کریں
صحابہ کرام اور سلف کی زندگی میں یہی وصف بہت نمایاں تھا انہیں ہر وقت یہ کیفیت رہتی تھی کہ میرا اللّٰہ مجھے دیکھ رَہا ہے، جب انسان کے دل میں یہ کیفیت آۓ کہ میرا اللّٰہ مجھے دیکھ رہا ہے تو پھر وہ ہر وقت گناہوں سے بچتا ہے ،
خوفِ الٰہی کا ایمان افروز واقعہ
صحابہ کرام کی زندگی میں اللّٰہ کا ڈر اور خوف کیسا تھا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے، دو دن گزرے گھر میں کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا، بھوک کی حالت تھی چہرے پہ بھوک کے آثار تھے،
ان کا غلام تھا ایک باہر نکلا اور کھانا لے کر آیا، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھا اور کہا حضرت بھوک کی حالت ہے تناول فرمائیں، حضرت صدیق اکبر بھوک میں تھے ایک لقمہ لے لیا اور پھر پوچھ لیا یہ کھانا کہاں سے لاۓ،
غلام نے کہا زمانہء جاہلیت میں میں نے ایک شخص کو جھاڑ پھونک کیا تھا اور اس سے وہ ٹھیک ہوگیا تھا، اُس نے اس کے بدلے میں مجھے یہ کھانا دیا ہے، کیونکہ زمانہء جاہلیت میں جھاڑ پھونک میں غیر اللّٰہ سے مدد لی جاتی تھی شرکیہ الفاظ بھی بسا اوقات ہوتے تھے
تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے مجھے یہ پہلے کیوں نہیں بتایا، اور منہ میں انگلی ڈالی تاکہ یہ لقمہ باہر آجاۓ لیکن لقمہ باہر نہیں آیا، پھر کوشش کی لیکن پھر بھی الٹی نہیں ہوئی، چونکہ چند دن بعد ایک لقمہ کھایا تھا تو وہ باہر الٹی نہیں ہو رہا تھا
آپ پانی کا ایک گھونٹ پیتے اور پھر منہ میں انگلی ڈالتے کہ لقمہ باہر آجاۓ، کافی کوشش کے باوجود لقمہ باہر نہیں آیا، کسی نے کہا حضرت اپنے آپ کو اتنی اذیت اور تکلیف میں کیوں ڈال رہے ہیں، اگر یہ ایک لقمہ پیٹ میں چلا گیا آپ کو معلوم نہیں تھا تو اس میں کوئی حرج نہیں
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ہر وہ جسم جو حرام سے پرورش پاۓ گا وہ جہنم کا زیادہ حقدار ہوگا
کہیں ایسا نہ ہو یہ ایک لقمہ میرے جسم کی نشوونما اور پرورش کا ذریعہ بنے اور اس کی وجہ سے میں جہنم میں چلا جاؤں، فرمایا یہ ایک لقمہ جب تک نہیں نکلے گا
میں اس وقت تک یہ کرتا رہوں گا، آخر وہ ایک لقمہ قے ہوگیا، یہ ہے خوفِ الٰہی، اللّٰہ کا ڈر
دعا
اے اللّٰہ اپنی محبت کو میرے لئے ہر چیز کی محبت سے بڑھا دے، مجھ میں اپنا خوف ہر چیز کے خوف سے زیادہ کر دے، آمین
خوف الہٰی کی فضیلت اور اہمیت، 3 سوال جواب
سوال 1: خوفِ الٰہی سے کیا مراد ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ کی عظمت، قدرت اور جواب دہی کا احساس دل میں رکھنا اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کرنا خوفِ الٰہی ہے۔
سوال 2: خوفِ الٰہی انسان کی زندگی پر کیا اثر ڈالتا ہے؟
جواب: خوفِ الٰہی انسان کو گناہوں سے روکتا، نیکی کی طرف مائل کرتا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔
سوال 3: خوفِ الٰہی رکھنے والے انسان کی کیا علامت ہے؟
جواب: وہ تنہائی میں بھی اللہ تعالیٰ کو یاد رکھتا ہے، گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنے اعمال کی اصلاح کرتا رہتا ہے۔
خلاصہ ،خوفِ الٰہی کی فضیلت اور اہمیت
الٰہی انسان کے دل کو گناہوں سے بچانے اور نیکی کی طرف بڑھانے کا ذریعہ ہے۔ اس مضمون میں خوفِ الٰہی کا مفہوم، اس کی اہمیت اور ہماری زندگی پر اس کے مثبت اثرات کو مختصر اور آسان انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
خوفِ الٰہی کی فضیلت اور اہمیت کے بارے میں قرآن و حدیث میں واضح رہنمائی ملتی ہے۔

- Khof e Elaahi ke Fazilat aur ahmiyat
- khof e Elaahi aur khashiyat me farq
- Khof e khashiyat k eman afroz waqiat